اضافہ عوام کُش قرار، واپس لینے کا مطالبہ
عارف بلوچ +سیداعجاز
اننت ناگ+ترال//اننت ناگ اورترال میں بجلی فیس میں اضافے کے خلاف صارفین کا احتجاج جاری ہے، عوام نے بجلی کے بڑھتے بلوں پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس اضافے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ڈورو میں ایس ڈی ایم آفس کے سامنے سینکڑوں بجلی صارفین نے اضافی بجلی بلوں کے خلاف زور دار احتجاج کیا۔احتجاجی صارفین نے حکومت اور محکمہ بجلی کے خلاف نعرے بلند کئے اور فیصلے کو عوام کش قرار دیا۔ڈی ڈی سی ممبر پیر شہباز کی قیادت میں مظاہرین نے ایس ڈی ایم ڈورو کو فیصلہ منسوخ کرنے کے حوالے سے میمورنڈم پیش کیا۔ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کو راحت پہنچانے کے بجائے آئے روز مشکلات میں دھکیل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ انکا علاقہ بچھڑا اور پسماندہ علاقہ ہے ،یہاں کی اکثریت مزدور طبقے سے ہے اور نئے اضافی بوجھ نے انکے مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔انہوں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ فیصلے پر فوری طور پر نظرثانی کریں۔اس بیچ مظاہرین نے مقامی ممبر اسمبلی کے کانسچونسی سے مسلسل غیر حاضر رہنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے موصوف کو کانسچونسی کی جانب توجہ دینے پر زور دیا۔ ترال کے مختلف علاقوں میں ان دنوں بجلی صارفین فیس میں پھر ایک بار اضافے کو لیکر شدید برہمی کا اظہار کر رہے ہیں ۔سنیچر کے روز ترال سے15کلو میٹر دور ستورہ نامی گائوں میں لوگوں نے ماہ دسمبر کی بلیں دیکھ کر شدید حیران گی کا اظہار کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل کر ایک خاموش احتجاج کیا ۔احتجاج میں شامل صارفین نے بتایا ان کا علاقہ مالی اعتبار اور زراعت کے حوالے سے کافی پسماندہ ہے ۔اس کے باوجود سال2025میں مسلسل3مرتبہ فیس میں اضافہ کیا ہے جس کے نتیجے میں علاقے کے غریب لوگ سخت مشکلات سے دو چار ہیں ۔لوگوں نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس نے انتخابات میں فیس میں کمی کا وعدہ کیا تھا تاہم زمینی سطح پر کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے سرکار خاص کر وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ فیس معاف کرنے کے بجائے انہیں پرانے داموں پر ہی بجلی فراہم کی جائے ۔