انجینئر سید سعادت اللہ حسینی کتاب کے تیسرے باب میں ’’اخلاقی تصور اور اخلاقی حساسیت‘‘ کے تحت اخلاقی حساسیت پر زور دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مسلم معاشرہ میں اخلاقی تصورات میں نظریے کی سطح پر کوئی بگاڑ نہیں لیکن عملاً ان کے حوالے سے حساسیت ختم ہو گئی ہے، مصنف اسلام کا تصور اخلاق جو کہ ہمہ گیر ہے بیان کرتے ہیں۔ قرآن کریم کی آیات سے وہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلامی اخلاق کا دائرہ وسیع ہے البتہ وہ کہتے ہیں کہ اخلاق کا تصور جب گٹ گیا تو بہت سی چیزوں کے تئیں وہ حساسیت برقرار نہ رہی ،ایفائے عہد، صفائی و پاکیزگی، صحت کے معاملات، وراثت، خواتین کے حقوق جیسے معاملات میں امت مسلمہ کے اندر وہ حساسیت پائی نہیں جاتی، اس حوالے سے واشنگٹن یونیورسٹی کی ایک ریسرچ ،جو کہ دو مسلمان محققین نے کی ہےاور گلوبل اکنامک جرنل میں شائع ہوا ہے،کے بارے لکھتے ہیں۔ اس تحقیق میں انہوں نے قرآن کی بعض اخلاقی تعلیمات کو لے کر اشارہ اسلامیت(Islamicity index) تشکیل دیا اور اعداد و شمار اور حقائق کو بنیاد بناکر 208 ملکوں کا جائزہ لیا۔ اس جائزے کے مطابق اسلام کی ان اخلاقی تعلیمات پر سب سے زیادہ عمل جس ملک میں ہوتا ہے ،وہ یورپی ملک آئر لینڈ ہے۔ اس کے بعد ڈنمارک، لکسمبرگ، سویڈن، نیوزی لینڈ، سنگاپور وغیرہ ہیں۔ پہلا اسلامی ملک جو اس رینکنگ میں جگہ بناسکا ،وہ 33ویں نمبر پر ملیشیا ہے۔ سعودی عرب 91 ویں مقام پر جبکہ ساری بڑی مسلم آبادیاں ۱۰۰ کے بعد، انڈونیشیا 104، پاکستان141 ،بنگلہ دیش145ہیں‘‘۔
مصنف اس باب میں اخلاقی حساسیت نہ ہونے کے اسباب بھی بیان کرتے ہیں ۔مثلاً زبان کی اصطلاحات کے تحت وہ مثال دیتے ہیں’’ قرآن میں چھوٹی چھوٹی باتوں کے سلسلے میں بھی اخلاقی احکام موجود ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ قرآن کا کوئی حکم چھوٹا نہیں ہوسکتا۔ ہماری حساسیت کی کمی کی وجہ سے وہ حکم چھوٹا لگتا ہے اور اسے چھوٹا کہنے سے اس عدم حساسیت کو مزید تقویت ملتی ہے۔ مصلحین کی زبان اور لب و لہجہ اخلاقی شعور میں ترتیب و درجہ بندی کا ایک تصور لاشعور میں جاگزین کردیتا ہے۔ اگر یہ تصور دین کی ترجیحات کے مطابق نہ ہو تو اہم مسائل پر حساسیت کم ہوجاتی ہے۔‘‘(صفحہ 38)اسی طرح ہر خرابی کی ذمہ داری حکومت کو سمجھنا اور عصبیتں بتاتے ہیں، اور باب کے آخر میں اخلاقی حساسیت کیسے پروان چڑھائی جائے پر بھی گفتگو کرتے ہیں۔
کتاب کے چوتھے باب کا عنوان ’’سماجی معمولات ‘‘ہے۔ اس باب میں مصنف نے سماجی معمول (social norms) پر بحث بات کی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے جدید سماجی ماہرین سے خوب استفادہ کیا ہے۔ اس باب کے مطالعہ سے سماجی سائنس کی اہمیت معلوم ہوتی ہے، اسی طرح انہوں نے سماجی معمولات کو جانچنے کے ماڈرن طریقے بھی بتائے ہیں، اسی طرح مصنف اسلام کی اس خوبی کو بیان کرتے ہیں جس کے نزدیک برائی کی تشہیر کرنے سے منع کیا گیا ہے، سماجی معمولات کیسے بدلے جا سکتے ہیں، کے تحت مصنف نے 6 طریقے بیان کیے ہیں جو کہ پریٹکل بھی ہیں، سائنٹفک بھی اور ممکن بھی۔ کتاب کے پانچویں باب میں مصنف نے ’’اصلاح معاشرہ اور سوشل انجینئرنگ ‘‘پر بات کی ہے، اس باب میں بھی انہوں نے ماہرین کی آرا پیش کی ہیں اور اسلام کا موقف بھی بیان کیا ہے، مصنف نے اس سلسلے میں ترجیحات، منصوبہ بندی اور تدریج پر زور دیا ہے۔مصنف کا ماننا ہے کہ ہماری اصلاحی تحریکیں نہ صرف غیر منظم اور غیر منصوبہ بند ہوتی ہیں بلکہ زیادہ تر یک طرفہ مواصلات (one way communication) تک محدود ہوتی ہیں یعنی تقریر و لٹریچر کے ذریعے اپنی بات بیان کردینا کافی سمجھا جاتا ہے۔(صفحہ 69)
امت مسلمہ کے مصلحین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ جاہلیت سے واقف ہو، انہیں معلوم ہو کہ باطل قوتیں کیسے کام کرتی ہیں۔ سعادت صاحب نے کتاب کے پانچویں باب ’’سوشل انجینئرنگ اور باطل طاقتیں‘‘ میں سماجی تبدیلی کے ان منصوبوں کا ذکر کیا ہے جو باطل قوتیں منصوبہ بند طریقہ سے کرتی ہیں، اس سلسلے میں انہوں نے کئی مثالیں پیش کی ہیں مثلاً gender equality کے نام پر عورت کا استحصال۔ جنسی مساوات کے تحت انہوں نے بیجنگ لائحہ عمل کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کس طرح وہاں areas of concern متعین کیے گئے، اہداف کے حصول کے لیے حکومتوں کو کیا کرنا ہے، سماجی تنظیموں کو کیا کرنا ہے، کمپنیوں کو کیا کرنا ہے، مصنف نے یہ بھی بتایا ہے کہ اہداف کے حصول کے لیے کس طرح ہمہ گیر سماجی منصوبہ بندی کی گئی، کس طرح امت مسلمہ میں حساسیت ختم کرنے کی کوشش کی گئی، اسی طرح اشتہار اور کارپوریٹ کو استعمال کیا گیا، یہی منصوبہ بندی ہم جنسی کے فروغ کے لئے بھی کی گئی، اس باب میں زبردست معلومات ہیں۔ اس باب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سماجی تبدیلی کا عمل کتنا ہمہ گیر، وسیع الاطراف اور منصوبہ بند ہے۔ مصنف لکھتے ہیں: ’’سماجی تبدیلی کے لیے جو کوششیں ہورہی ہیں وہ صرف تقریر و تحریر اور رائے عامہ کی بیداری کے عام طریقوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ سماجی معمولات کو بدلنے، نئے تصورات کو ذہنوں میں راسخ کرنے، نئی حساسیت پیدا کرنے اور قدیم طریقوں کو ختم کرنے کے لیے بہت سے غیر محسوس لیکن نہایت کارگر طریقے اختیار کیے جارہے ہیں ۔ ایک اہم بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ سماجی تبدیلی کا کام اب صرف سماجی مصلحین تک محدود نہیں رہا۔ بلکہ سماجی تنظیموں ، حکومتوں ، میڈیا حتٰی کہ کاروباری اور تجارتی اداروں کا بھی اس میں نہایت سرگرم کردار ہے۔‘‘(صفحہ 87)
کتاب کے آخری باب میں مصنف نے چند عملی مثالوں کے حوالے سے منظم سماجی اصلاح کے منصوبے کا نمونہ پیش کیا کیا ہے، مصنف نے چار مثالیں پیش کی ہیں۔ پہلی مثال میں مصنف نے ’’نکاح کا مشکل ہونا‘‘ کے تحت عملی پروگرام دیا ہے، مصنف لکھتے ہیں:’’تدریجی سوشل انجینئرنگ کا ایک اہم کلیہ یہ ہے کہ ذہانت کے ساتھ ایسی برائی کا انتخاب کیا جائے جس پر ضرب لگانے سے بہت سی دیگر برائیوں کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔یہ کام سنجیدہ ریسرچ چاہتا ہے کہ ایسی برائیوں کی شناخت کی جائے جو دوسری برائیوں کا ذریعہ بن رہی ہیں۔اگر معاشرتی بگاڑ پر نظر ڈالیں تو ہمارا اندازہ یہ ہے کہ معاشرتی برائیوں میں نکاح کا مشکل ہوجانا یا نکاح سے وابستہ تقریبات و فضول خرچیاں ایک بڑی برائی ہے۔ اس برائی کی وجہ سے کئی معاشرتی خرابیاں پیدا ہورہی ہیں۔‘‘(صفحہ 89) اس کے بعد انہوں نے 12 خرابیوں کی فہرست پیش کی ہے، جن کے فروغ میں نکاح کے مشکل ہونے کا دخل ہے،اس کے بعد مصنف نے منصوبہ بند طریقہ سے اس برائی کا سدباب کے لیے عملی پروگرام دیا ہے، اسی طرح دوسری مثال میں قانون وراثت سے بے اعتنائی، تیسری مثال میں تجارت و مالیات سے متعلق برائیاں اور چوتھی مثال میں صفائی و پاکیزگی کے فقدان کے حوالے سے عملی پروگرام دیا ہے، ہر مثال میں ایک چارٹ ہے، ساتھ ہی برائی ختم کرنے کے لیے بہترین اور ممکنہ ذرائع بتائے ہیں، ان مثالوں سے باقی خرابیوں کے ازالہ کے لیے بھی راہ ملتی ہے۔کتاب میں حوالہ جات کی کثرت سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے کتاب لکھنے کے لیے کس عرق ریزی سے کام لیا ہے۔
ایک عرصہ سے اس بات کی کمی محسوس کی جا رہی تھی کہ تحریک اسلامی نیا موثر اور موجودہ تقاضوں کے پیش نظر لٹریچر تیار نہیں کر پاتی ہے لیکن 'زندگی نو میں دو سال سے ایسے مضامین شائع ہو رہے ہیں جو کہ اس خلا کو پورا کر رہے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب کے مضامین اصل میں 'زندگی نومیں تسلسل کے ساتھ شائع ہوئے،اس کے بعد ان میں کچھ ترامیم کی گئی، اگر 'زندگی نو کا یہ سلسلہ جاری رہا تو امید ہے کہ تحریک اسلامی ایک بہترین لٹریچر پیش کرنے میں کامیاب ہوگی. راقم کا ماننا ہے کہ یہ کتاب نہ صرف اصلاحِ معاشرہ کا عظیم فریضہ انجام دینے والوں کے لیے گائیڈ بک کا کام دے گی بلکہ سوشیالوجی کے طالب علموں کے لیے بھی رہنما کتاب کے طور پر کام دے گی ۔کتاب کا گیٹ اپ اور کاغذ بھی اعلیٰ ہے اور قیمت صرف 120 روپے ہے. کتاب فون نمبر 7290092403 پر منگوائی جا سکتی ہے.
(باہمولہ کشمیر۔مبصر کا واٹس اَپ نمبر۔ 9906653927)