ایسے وقت جب پوری دنیا کورونا وائرس کی گرفت میں ہے، انسانیت پھر ایک بار ذاتی پاکیزگی اورحفظان ِ صحت کے ا صولوں پر نظرثانی کررہی ہے۔ بے شک گزشتہ دو ڈھائی صدیوں سے مغربی تہذیب نے ذاتی پاکیزگی یعنی پرسنل ہائجین کو ایک برانڈ کی طرح متعارف کیا،لیکن اسلامی تہذیب ہی درحقیقت ذاتی پاکیزگی کی اولین نمائندہ ہے۔
پیغمبر اسلام ؐ کا ارشاد ہے کہ طہارت نصف ایمان ہے۔ دراصل اللہ کے حکم سے پیغمبر کا مقصود ہی تھاکہ انسانیت کو جسم اور روح کی ناپاکیوں سے مبرا کیا جائے اور صالح عقائد و پاکیزہ اخلاق سے اراستہ ایک نیک خْو سماج استوار کیا جائے۔
وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جنہیں ہم جدید دور کی دوڑ دھوپ میں نظرانداز بھی کرتے ہیں، کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے پس منظر میں کس قدر اہم معلوم ہوتی ہیں:
1 صبح سویرے جاگتے ہی بغیر غسل یا وضو پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے کی ممانعت۔
2 پاخانے سے فراغت کے بعد ہی کھانا کھانے کی تاکید۔
3 پاخانے جاتے وقت جوتا پہننے اور سَرڈھانپنے کا حکم اور بیت الخلاء میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت اللہ سے شیاطین کے غلبہ کی نجات کی دعا۔
4 اسی طرح جْرابیں یا کپڑے پہننے سے قبل انہیں اچھی طرح جھاڑنا ، ناک میں بار بار اُنگل نہ کرنا،منہ یا دانت سے نکلے کھانے کو دوبارہ نہ کھانا، کھانستے یا چھینکتے وقت منہ کو صاف کپڑے سے ڈھکنا، کھانے کے بعد دانتوں میں خلال کرتے وقت منہ کو دوسرے ہاتھ سے ڈھک لینا وغیرہ۔
اس کے علاوہ لباس کی پاکیزگی، بالوں اور داڑھی میں تیل لگانے ، بے ڈھنگے بالوں اور داڑھی کی مناسب اصلاح،خوشبو کا استعمال بھی ذاتی پاکیزگی کے وہ اصول ہیں جنہیں گزشتہ چند صدیوں کے دوران مغرب نے مارکیٹ کے تابع کرکے تصنع اور فیشن کا حصہ قرار دے دیا ہے۔
مؤرخ کہتے ہیں کہ دسویں اور گیارہویں صدی کے دوران یورپ میں سیاہ دور یعنی ڈارک ایجز کا زمانہ تھا۔یہ صلیبی جنگوں کا بھی دور تھا، اور جو عیسائی جنگجو فلسطین کے علاقوں میں جاتے تھے وہ وہاں پر صابن کے استعمال سے حیرت زدہ ہوتے تھے اور بعد ازاں صابن کا استعمال یورپ میں ہونے لگا۔ یورپ میں تو قدیم عیسائی سماج میں روزانہ نہانے کو ممنوع قرار دیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ اٹھارہویں صدی میں یورپی نشاۃ ثانیہ کے معماروں میں شمار فرانسیسی دانشور یان یاکس روسو جب روزانہ نہانے لگے تو عیسائی علماء انہیں طعنہ دیتے کہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں اور بلند اواز میں انہیں سلا م علیک کہتے۔ ہسپانیہ (مسلم سپین) میں عبدالرحمان دوم کے دور میں مسلمان انجینئروں نے پاخانوں کی پاکیزگی کے لئے چین کا سفر کیا اور وہاں سے سیرامِک لاکر پاخانوں میں چینی مٹی سے بنے کموڈ کا استعمال عام کروایا۔ وضو، غسل، ذاتی پاکیزگی، وبا سے متاثر مقامات پر جانے سے پرہیز وغیرہ وہ سب چیزیں ہیں جو اسلامی زندگی کے اصول و مبادیٰ ہیں۔ کورونا وائرس کے بحران نے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ ہم نئی نسل کو اسلام کے اس حیات بخش پہلو کی طرف راغب کریں۔
(کام نگار سماجی رضاکار ہیں اور ان سے 9469679449پر رابطہ کیاجاسکتا ہے)