آج کورونا کا نام خوف و ہراس کا دوسرا نام بن کر رہ گیا ہے۔ پوری دنیا بلا مبالغہ اس کی زد میں ہے اور جو نہیں ہیں اس سے بچاؤ کی تدبیریں ہیں۔ یہ ڈر اس قدر بڑھ گیا ہے کہ دنیا کے انسانی ٹھیکیداروں نے تو دنیا ہی بند کرکے رکھ دی۔ اتفاق رائے سے تمام انسانی حکمرانوں نے یہ اعتراف بھی کرلیا کہ کرونا کے سامنے وہ عاجز اور بے بس ہیں۔ نہ ان کے پاس اس کا کوئی علاج ہے اور نہ ہی وہ اس کا مقابلہ کسی اور طور سے کرسکتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے دنیا کے تمام کاروبار کو ٹھپ کرکے رکھ دیا اور اپنی رعایا کو ایک طرح سے بھلائی کے نام پرگھروں میں قید کرکے رکھ دیا۔ کیا یہ واقعی کوئی علاج ہے؟ یہ ایک بحث کا موضوع ہے لیکن ہم اس میں نہیں پڑتے ہوئے اس بات کو اُجاگر کرنا چاہتے ہیں کہ یہ تمام پریشانی ہمارے ماحولیات کو لے کر لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ ماحولیات، جو آج کے زمانے کا خاص موضوع ہے۔ اس کو محفوظ رکھنے کے لیے ہزاروں جتن کئے جارہے ہیں جبکہ مذہب اسلام نے آج سے تقریباً ڈیڑھ ہزار برس سے قبل ہی اپنے پیروکاروں کو ماحولیات کے تعلق سے آگاہی دے دی تھی۔
اسلام کے معنی امن وسلامتی کے ہیں۔ اللہ کے سامنے جھکنے، اُس کی باتیں ماننے اور اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنے کو اسلام کہتے ہیں۔ جو شخص اللہ کے سامنے جھکتا ہے۔ اللہ کی باتیں مانتا ہے اور اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرتا ہے وہ مسلم کہلاتا ہے۔ اسلام کے پانچ ارکان ہیں۔ (۱) ایمان یعنی کلمۂ طیبہ پڑھنا اور اس پر یقین کرنا۔ (۲) دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں پڑھنا۔ (۳) رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔ (۴) اپنے مال سے ڈھائی فیصد زکوٰۃ دینا۔ (۵) اگر مکّہ آنے جانے کی مالی استطاعت ہو تو حج کرنا۔
اللہ نے اپنے پیامبر جناب محمد مصطفی ﷺ کے ذریعے قرآن اُتارا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو قرآن اور اسلام کی سچی حقانیت سے آگاہ کیا۔ مذہب اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔ جس میں پیدائش سے لے کر موت تک کے تمام حالات کو گہرائی اور گیرائی کے ساتھ سمو دیا گیا ہے۔ جب انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنا بندہ بناکر اس فانی دنیا میں بھیجا تو نہ صرف اس کی آسائش و آرام، خورد و نوش بلکہ اس کی فطری ضرورتوں کے لیے بھی تمام سامان مہیا کردیا۔ اس کے ساتھ ہی انسانی جان کی حفاظت کے لیے تندرستی کے لیے ایک ایسی ڈھال بنایا جو ماحول کہلاتا ہے۔
جاندار اور غیر جاندار اشیاء کے اطراف اور گرد و پیش ماحول کہلاتا ہے یعنی ہمارے اطراف پائی جانے والی تمام اشیاء ماحولیات کا حصہ ہیں۔ ماحول کے دو اجزاء ہیں۔ (۱) حیاتی اجزاء (۲) غیر حیاتی اجزاء۔
حیاتی اجزاء میںانسان، جانور، چرند، پرند، درندے، نباتات اور جراثیم وغیرہ کو شامل کیا جاتا ہے۔ غیر حیاتی اجزاء میں ندی، نالے، جھیل، تالاب، آسمان، پہاڑ، ٹیلے، سمندر، پانی، مٹی اور ہواوغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔
قدرتی ماحول میں حیاتی اجزاء اور غیر حیاتی اجزاء کے درمیان گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ یہ عناصر ایک دوسرے پر منحصر ہوتے ہیں۔ قدرت نے ہمیں ہزاروں نعمتیں عطا کی ہیں جن میں حیاتی وغیر حیاتی اجزاء شامل ہیں۔ یہ تمام چیزیں اللہ نے انسان کی بھلائی کے لیے بنائی ہیں۔ ہم ان کا استعمال صحیح ڈھنگ سے نہ کریں تو نقصان ہمارا ہی ہوگا۔ درختوں سے ہمیں لاتعداد فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اگر ہم فوائد کو نظر انداز کرکے درختوں کو کاٹ کر برباد کرنے پر تُل جائیں تو ہمارے لیے سانس لینا دُشوار ہوجائے گا۔ ہم اگر درختوں کو کاٹ ڈالیں گے تو ہم پانی پانی کے محتاج ہوجائیںگے۔ آج ہم اگر بڑے شہروں کا مشاہدہ کریں تو معلوم ہوگا کہ کتنے ایسے افراد ہیں جو روزانہ پانی خرید کر پی رہے ہیں۔ ملٹی سیٹیز میں صاف و شفاف ہوا اور پانی کا حاصل ہوجانا ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔ آج دنیا ماحولیاتی تعفن اور پانی کی قلّت سے نبرد آزما ہے۔ اِسے بہتر بنانے کے لیے شجر کاری ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’جو مسلمان کوئی درخت لگائے اور اس کا پھل یا چارہ کوئی ذی روح کھائے تو لگانے والے کے حق میں تاقیامت صدقۂ جاریہ میں شمار ہوگا۔‘‘
مذہب اسلام میں پانی کے بے جا اصراف سے بھی منع کیا گیا ہے۔ اگر وضو کے لیے پانی مہیا نہیں ہے تو تیمم کے ذریعے بھی وضو کا اہتمام اسلام میں بتایا گیا ہے۔
اسلامی جنگوں میں کھیت کھلیان کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا اور نہ ہی فصلوں کو تہس نہس کیا گیا لیکن تاریخ کا ہم مطالعہ کریں گے تو ہم ایسے حکمرانوں کے متعلق بھی پڑھیں گے جنھوں نے نہ صرف قتل عام کئے بلکہ کھیتوں کو اور گھر بار کو بھی اُجاڑ دیا۔
مذہب اسلام میں تدفین کا طریقۂ کار یہ رہا ہے کہ مرحوم کو غسل دے کر زمین میں دفن کیا جاتا ہے جب کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں، مختلف مذاہب میں تدفین کا طریقہ مختلف ہے۔ کہیں پر آگ کے سپرد کردیا جاتا ہے تو کہیں درندوں کے حوالے کردیا جاتا ہے۔
سال ۲۰۲۰ء سے ہم کرونا نامی وائرس جیسی موذی بیماری سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ کرونا وائرس کی دوسری لہر نے بھارت بھر کی ریاستوں کودہلا دیا ہے۔ ان ریاستوں کے زیادہ تر افراد ایسے ہیں جو اپنے مرحومین کو جلانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ کہیں بہت زیادہ لاشوں کو جلانے کی وجہ سے تعفن خیز ماحول ہوگیا تو کہیں لکڑیاں نہ ملنے کے سبب انھیں گنگا کی نذر کر دیا گیا۔ جہاں لاشیں ہی لاشیں گنگا کے پانی میں تیرتی نظر آرہی ہیں تو کہیں گھاٹوں میں لاشوں کو مختصر ریت میں دبا دیا جارہا ہے۔ کھلے میدان میں ہوا چلنے سے ریت ہٹ رہی ہے اور برہنہ لاشیں کھلے عام نظر آرہی ہیں۔ جب کہ کھلے میدان میں انسانوں کو دفن کرنے سے جو تعفن پھیل رہا ہے اس کے ساتھ ہی کرونا وائرس نامی بیماری سے بچنے کے لیے جو مریض اس بیماری میں مبتلا ہیں ان کے رشتہ دار اُسے زندہ یا مردہ چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں تاکہ وہ اس کرونا کی وباء سے محفوظ رہ سکیں۔
اسی لیے مذہب اسلام میں تدفین کا جو طریقۂ کار بتایا گیا ہے وہ ماحولیاتی آلودگی سے پاک ہے۔ انسان میں پائے جانے والے مرکبات زمین میںشامل ہوجاتے ہیں اور کوئی ماحولیاتی تعفن نہیںہوتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں ماحولیات کی کتنی قدر و قیمت ہے۔
آج دنیا بھر میں ماحولیات کو تعفن سے بچانے کے لیے نئے حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔ صاف و شفاف آب وہوا، صاف پانی، زمین بچاؤ، پانی بچاؤ، درخت لگاؤ مہم کے جتن کئے جاتے ہیں لیکن کیا کوئی طرز اسلام کا پاکیزہ طریقہ اپنا کر محض تجربہ کرنے کو بھی تیار ہے؟ حالاں کہ ماحولیات کے بگڑتے توازن کو صرف اور صرف اسلام کے بنائے اُصولوں اور نہج پر چل کر ہی بچا جاسکتا ہے۔
اسلامی تعلیمات، نبی کریمﷺ کے بتائے طریقے سے ہی ہم ماحولیات کو صاف ستھرا قائم ودائم رکھ سکیں گے بلکہ دورِ جدید کی بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکیں گے۔ آج کرونا وائرس، بلیک فنگس، ایڈز، کینسر جیسی موذی و جان لیوا بیماریوں سے نہ صرف ہم بلکہ اپنے اطراف نیز شہر و معاشرہ کو بھی محفوظ رکھنے میں کسی حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں۔ البتہ اس کے لیے یہ شرط ہے کہ ہم اسلام اور ماحولیات کو تقابلی نظریے سے نہیں، معاشرہ کی فلاح و بہبود کے مقصد سے مطالعہ کرکے اس کو عملی طور سے برتنے کی پُرخلوص کوشش کریں گے تو پوری دنیا کو ایک خوش گوار اور صحت بخش ماحول فراہم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
رابطہ۔مالیگاؤں،فون نمبر۔ 9145139913