بصیرتیں ہوں میسر توسن سکو تم بھی
خاموشیوں کی بھی اپنی زبان ہوتی ہے
آخرکارمتحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کیلئے معاہدہ طے پاگیا۔امریکہ کی ثالثی میںہونے والایہ سمجھوتہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کو فروغ دینے کا سبب بنے گا،یہ تو نہیں کہاجاسکتا البتہ عالمی میڈیا میں اس حوالے سے جو خبریں آرہی ہیں،اُن سے یہ ضرور واضح ہورہاہے کہ اپنے وجود و بقاکی جدوجہد میں برسوں سے مصروف فلسطینیوںکواس ڈیل سے شدید مایوسی ہاتھ آئی ہے۔متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے علاوہ امریکہ اس معاہدہ کو’ تاریخی‘ کیوں قرار دے رہاہے ،اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔یواے ای اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا خوشی سے جھوم اُٹھنا اورخطے کے دوسرے مسلم ممالک سے بھی اسی طرح کے سفارتی تعلقات کے قیام کی خوش امیدی کااظہاربے وجہ بھی نہیں ہے۔دراصل ٹرمپ صاحب جو بات ابھی نہیں کہہ سکتے، وہ بھی مسلمان جانتے ہیں کہ جس طرح اسرائیل کے وزیراعظم اور ابوظہبی کے ولی عہد کے مشترکہ بیان میں دوستی کااظہار کیا گیا ہے، ویسا ہی ایک اعلان کل کو سعودی عربیہ اور اسرائیل کی جانب سے بھی کیاجاناہے،جس کیلئے امریکی صدر ماحول کو مزیدسازگاربنانے میں لگے ہیں۔
دراصل عربوں کی دولت پر قبضہ جمائے رکھنااورانہیںآپس میں لڑا تے ہوئے مشرق وسطیٰ میںاپنے مفادات کا تحفظ کرنااہل مغرب کی ترجیحات کاحصہ رہاہے۔یہی وجہ رہی کہ پہلے انہوںنے اسرائیلی ریاست کے قیام میں غیر معمولی دلچسپی دکھائی اور پھر اس کے استحکام اور توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل میں مغرب ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ مستعدی کے ساتھ کھڑارہا۔دوسرے لفظوںمیںیہ کہنا مناسب ہوگا کہ اسرائیل مغربی ممالک کی بھرپور مدد سے زندہ ہی نہیںہے،بلکہ ترقی کے معراج پربھی پہنچ چکاہے۔یہ قوم تعداد میں کم ضرورہے،مگر آپسی اتحاد میں اپنی مثال آپ ہے ۔ مغرب کے قدم سے قدم ملا کرایک طرف اسرائیلی ترقی کی نئی نئی عبارت لکھ رہے ہیںتو دوسری جانب فلسطینیوںپر مظالم کے پہاڑڈھانے میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ۔ دنیا کی 90فیصد سے زیادہ دولت ان کے پاس ہے۔عالمی سطح پر میڈیا پران کاقبضہ ہے ،سائنس اورٹکنالوجی کے فروغ میں بھی ان کی غیرمعمولی دلچسپیاںجگ ظاہر ہیں۔اسرائیل کی ترقی کے سفرمیں عیسائیوںکی شمولیت بھی قابل رشک ہے۔دنیاکی زیادہ تر عیسائی پس منظروالی حکومتیں انھیں ہمیشہ مدد کرتی ہیں اور وہ بھی توریت اورانجیل کے حوالے سے عیسائیوں کو اپنا سگابھائی سمجھتے ہیں۔
دلچسپ یہ بھی ہے کہ متحدہ عرب امارات اوراسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کو زیادہ تر عرب ممالک نے تاریخی قدم بتاتے ہوئے معاہدہ کی حمایت کی ہے،لیکن ترکی نے اس معاملہ میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کرنے کی دھمکی بھی دی ہے،جبکہ خود اس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات پہلے سے ہی استوار ہیں۔ترک صدر رجب طیب اردغان نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’ کہ یو اے ای سے تعلقات معطل کرنے کے علاوہ ابوظبی میں متعیّن ترک سفیر کو واپس بلانے پر بھی غور کیا جارہا ہے‘۔ادھرترک وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ’ تاریخ یو اے ای کو اسرائیل سے ڈیل طے کرنے اور’منافقانہ کردار‘ پر کبھی معاف نہیںکرے گی۔
عالم عرب کی صورتحال پر نگاہ رکھنے والوںکا کہنا ہے کہ جلد ہی عمان، بحرین اور کچھ دوسرے ممالک بھی باقاعدہ اعلان کرادیں گے کہ وہ بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کررہے ہیں تاکہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق ہی نہیں بلکہ ریاست دلاسکیں کیوں کہ یہ مسئلہ جنگ سے نہیں امن سے اور اسرائیل سے بات چیت کے ذریعہ حل ہوسکتاہے۔
اگرآپ اس وقت دنیا کے حالات پرغور کریں توپتہ چلے گا کہ ایران، ترکی، ملیشیااور پاکستان نے روایتی عرب ممالک اور قیادت سے الگ اپنی پہچان قائم کرنے کی کوشش ضرور کی ہے،لیکن فلسطینیوںپر اسرائیلی مظالم کے حوالے سے ان کا ایسا کوئی کردار سامنے نہیں آیا ہے،جو ظاہر کرسکے کہ مشرق وسطیٰ کے حالات کی تبدیلی میں ان کا کہیں کوئی رول ہوسکتا ہے۔ویسے یہ طے ہے کہ مشرق وسطی میں یہ حالات نہیں رہیں گے جوابھی ہیں کیوں کہ کووڈ19وائرس نے بڑی طاقتوں کی ہوانکال دی ہے۔ خاص کر امریکہ کی۔ اب امریکہ لڑائی سے بچے گا کیوں کہ چین نے اب اس کی جگہ لے لی ہے اور داخلی طور پر سارے امریکی اکٹھے نہیں ہیں اندرونی طور پروہاں طرح طرح کے مسائل بھی جنم لینے لگے ہیں۔ بات ہورہی تھی ابوظہبی اور نتن یاہو کی دوستی کی، جس کی غیر عرب مسلم طاقتوں نے مخالفت کی ہے۔ اس دوستی سے بہرحال عربوں کی ذہنیت کھل کرسامنے آگئی ہے۔
یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ مظلوم فلسطینیوں کے لیے یہ صورتحال پریشان کن بن گئی ہے۔کل تک جواُن کے لیے ’دوست ملک‘ ہوا کرتے تھے،اب ایک ایک کرکے وہ اسرائیل سے قربت بڑھارہے ہیں اور یوںفلسطین کے لیے عالمی سطح پر’ہمدردممالک‘کی فہرست دن بہ دن مختصر ہوتی چلی جارہی ہے۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی عالمی برادری میں شامل 193 ملکوں میں سے 163 اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کے باہمی سفارتی تعلقات موجود ہیںجبکہ سعودی عرب، شام،عراق،قطر، عمان، لیبیا، کویت، لبنان ،یمن ،افغانستان، ایران، بحرین، مراکش، پاکستان، تیونس، الجزائر، انڈونیشیا، برونائی، بنگلہ دیش، سوڈان، شمالی کوریا،صومالیہ،کیوبا ،مالی، ملائیشیا، موریطانیہ ، وینزوئیلااور بھوٹان جیسے کچھ ہی ممالک ہیں،جنہوں نے اسرائیل کے وجود کو یا توتسلیم نہیں کیا ہے،یا جنہوں نے سفارتی نوعیت کے تعلقات قائم کرنے سے پرہیز کیا ہے۔
یہ بھی ایک سچائی ہے کہ فلسطین کایہ قضیہ بیت المقدس کی وجہ سے مسلمانوں کی غیرت اور ناموس کا مسئلہ بن چکا ہے ۔ حضوراکرمؐ کے سفر معراج کی وجہ سے مسجداقصیٰ کوجوتاریخی حیثیت حاصل ہے،وہ مسلم ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی اکثریت مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی رہی ہے۔حقیقت تو یہ بھی ہے نہ صرف مسلمانوںنے فلسطینیوںکاساتھ دیا بلکہ وہ تمام مملکتیںاہل فلسطین کے ساتھ کھڑی رہیں،جنہیںانسانی عظمت کااحساس تھااورجنہیں انصاف کے اعلیٰ عالمی معیارکی فکرلاحق تھی۔ہندوستان بھی کل تک اُن خوش قسمت ممالک کی فہرست میں نمایاں اہمیت کے ساتھ شامل تھا،جو فلسطینیوں کی جدوجہد کی حمایت اور اسرائیل کی جارحیت کی مخالفت کیاکرتے تھے۔
اسرائیل کے ذریعہ فلسطین میں وہ جوروستم ڈھا ئے جاتے رہے ہیں جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ انھوں نے 1967میں قدس پر، گولان پر اور دوسرے فلسطینی علاقوں پرزبردستی قبضہ ہی نہیں کیا بلکہ اب وہ پوری فلسطینی زمین پر قابض ہونا چاہتے ہیںاور اس کے تحت غیر قانونی یہودی بستیوںکے قیام کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہنوزقائم ہے۔
امریکہ دانشوراورمحققین پروفیسرجان مئرہشمیر اور پروفیسر اسٹیفن مالٹ نے اپنی کتاب’ اسرائیل لابی اور یویس کی خارجی پالیسی‘میں اسرائیل کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈبن گوریان کے ذریعہ عالمی یہودی کانگریس کے صدر تاہم گولڈمین کولکھے گئے خط کا جو متن شامل ہے،اس میں انہوںنے اس سچائی کابرملااعتراف کیا ہے کہ ’اگر میں کوئی عرب لیڈر ہوتا تو اسرائیل سے کبھی سمجھوتہ نہ کرتا یہ ایک فطری بات ہے کہ ہم نے ان سے ان کا ملک چھیناہے۔ یہ درست ہے کہ ہمارا تعلق اسرائیل سے ہے لیکن دوہزار سال پہلے کی بات ہے۔ فلسطینیوں کابھلا اس سے کیاواسطہ، ہاں دنیا میں یہودی مخالف تحریک نازی ہٹلر، آش وٹنرسب رہے ہیں مگر کیا اس کی ذمہ دار فلسطین ہے؟ فلسطینی صرف ایک چیز دیکھتے ہیں کہ ہم یہاں آئے اورہم نے ان کا ملک چرالیا‘۔
یہ بھی سچ ہے کہ 1968سے اب تک عرب ملکوںنے اسرائیل کی جارحیت کامقابلہ کبھی نہیں کیا۔مظلوم فلسطینی کل بھی تختۂ مشق بن رہے تھے،آج بھی وہ مار کھارہے ہیں۔ظاہری طورپرالبتہ فلسطینیوں کی حمایت کااظہار ضرور کیا جاتا رہاتھا،مگر اب’ امریکہ کی ذہنی غلامی‘ کاکمال دیکھئے کہ عرب ریاستیں باقاعدہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے قیام پر پوری طرح آمادہ ہیں جس کی ابتدا ابوظہبی نے جلے پرنمک ڈالتے ہوئے کردی ہے۔
رابطہ۔ 9971730422،[email protected]