بے شک موجودہ صدی کو انسانی ترقی کاعروج اور انتہا سمجھا جاتا ہے، جہاں یہ صدی انسانی دماغ کی ترقی کی انتہا کو ظاہر کرتی ہے، وہیں یہ انسانی محبت کی تباہی کےآغاز کا مظہر ہےاور اِس نے مادی سہولتوں، آسانیوں اور مشینوں کے عوض انسانی وجود سے وابستہ رشتوں اور محبتوں کا خاتمہ بھی کر دیاہے۔ موجودہ دور میں اِنہی بنیاد پر جہاں مغرب میں خاندانی نظام تباہ و برباد ہو چکا ہے وہیں مشرق میں بھی خاندانی رشتوں میں بگاڑ آگیا ہے ۔ظاہر ہے کہ خاندان مرد اور عورت کی شادی کے ذریعے وجود میں آتا ہے، جسے شوہراور بیوی کا نام دیا گیاہے۔میاں اور بیوی کے درمیان محبت و شفقت،احترام و ہمدردی اور ایثار و اعتماد کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے،جس کے نتیجے میںشوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لئے معاون و مددگار بن جاتے ہیں۔ اسلام نے میاں بیوی کی سرگرمیوں کے دائرے متعین کر دئیے ہیں ، دونوں کا ایک مخصوص کردار اور دائرہ عمل ہے، جس میں رہ کر اُنہیں کام کرنا ہے ۔لیکن موجودہ دور میں زیادہ تر زوجین انتشار و اضطراب،قلق و بے چینی کا شکار ہیں،جس کا بڑا سبب یہی ہے کہ انہوں نے دینی تعلیمات کے مطابق زندگی گذارنا چھوڑ دیا ہے ۔ اسلامی معاشرے میں بیوی، بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کا ذمہ دار مرد ہے اور بیوی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بچوں کی صحیح نگہداشت کرے اور گھر کو خوش اسلوبی سے سنبھالے، لیکن ایسا تب ہی ممکن ہے، جب زوجین کے درمیان محبت و الفت قائم ودائم رہے۔ ظاہر ہے کہ عورت شوہر کی خواہش و مرضی کے مطابق ہمیشہ ایک حال پر قائم نہیں رہ سکتی ،اس لئے شوہر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ اس کی فطرت،عادت اور مزاج میں شامل ہے، اس لئے وہ اُس پر اپنی مرضی کے مطابق زیادہ سختی نہ کرے بلکہ اُس کے نسوانی مزاج کا خیال رکھتے ہوئے اس کی لغزشوں، کوتاہیوں اور غلطیوں سے درگزراور چشم پوشی سے کام لے۔ اگر بیوی کو تھکن،اُکتاہٹ اور تنگی محسوس ہو تو شوہر بیوی کے کام میں ہاتھ بھی بٹائے اور نرم لیجے یا میٹھی باتوں سے اس کی دلجوئی کرے تاکہ اُسے احساس ہو کہ وہ ایک نرم مزاج ،بردبار شوہر کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہے جو اس کی دیکھ بھال کرتا ہے اور اُس کے معاملات پر توجہ بھی دیتا ہے، اس میں کسی قسم کی عار یا شرمندگی محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ اسلام زوجین کے درمیان محبت و شفقت،احترام و ہمدردی اور ایثار و اعتماد کا رشتہ قائم کرتا ہے، اسی لئے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ معاون و مددگار قرارد ے کر اسے ’لباس‘ سے تعبیر کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خوش گوار ازدواجی زندگی کے لئےمیاں اور بیوی دونوں کو ہی اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے۔عقلمند شوہر جب بیوی میں کوئی کمی،نقص اور خامی پاتا ہے تو وہ اس کی اصلاح احسن طریقے سے کرتا ہے، اس کے لئے وہ لطیف،خوش گواراور کام یاب راستہ اختیار کرتا ہے اور وہ سب کے سامنے لعنت ملامت،طنز اور سرزنش نہیں کرتا ، کیوں کہ عورت کو سب سے زیادہ تکلیف اسی صورت میں پہنچتی ہے، جب اُسے سب کے سامنے لعنت ملامت کی جائے۔ ازدواجی زندگی میں ایک دوسرے پر اعتماد کرنا بہت ضروری ہے۔ ضرورت سے زیادہ حساس اور شکی مزاج ہونے سے آپس میں نااتفاقی اور لڑائی ہوتی ہے اور فاصلے بڑھ جاتے ہیں جس سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔اختلافات ازدواجی زندگی کا حصہ ہیں، اختلافات کو دورکرنے کے لئے نرمی کے ساتھ افہام و تفہیم سے کام لیا جائے۔اگر اس سے بھی بات نہ بنے تو دونوں خاندان کے ایک ایک مخلص فرد کو ساتھ بٹھا کر مسئلے کو حل کیا جائے۔ازدواجی زندگی میں سب سے نازک اور حساس مسئلہ ساس اور بہو کا ہوتا ہے۔باشعور اور صالح شوہراگر اسلامی تعلیمات سے واقف ہو تو وہ بیک وقت دونوں کو خوش و خرم رکھ سکتا ہے، اس طرح سے کہ وہ نہ تو ماں کا نافرمان ہوتا ہے اور نہ ہی بیوی کے حقوق کا غاصب ہوتا ہے۔ اسلام نے ماں اور بیوی دونوں کو اُن کا صحیح مقام دیا ہے، بشرطیکہ انسان اس پر واقعی عمل کرے اور اس سلسلے میں ماں اور بیوی دونوں ہی اس میں اُس کا ساتھ دیں۔اسلام نے جہاں شوہر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، وہیں بیوی کو بھی حکم دیا کہ وہ عدل و انصاف اور جائز حدود میں رہتے ہوئے اپنے شوہر کی اطاعت کرے۔اگر زوجین اسے اختیار کر لیں تو ان کی ازدواجی زندگی بہت خوش گوار ہو جائے گی اور گھروں میں لڑائی جھگڑوں کی جگہ امن و سکون اور خوش حالی کی فضا چھائی رہے گی۔