گیارہ نومبر کو سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے ارنب گوسوامی کی عبوری ضمانت کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا ۔جس طرح سے سپریم کورٹ آف انڈیا نے گوسوامی کیس میں سنوائی کی ، اس کو دیکھ کر کشمیر نریٹر میگزین کے صحافی آصف سلطان یاد آ گئے جو لگ بھگ 800 دن جیل میں گزارنے کے بعد بھی کسی سنوائی سے محروم ہیں۔ اسکے علاوہ اور بھی سماجی کارکن و صحافی ہیں جن کی مہینوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنے کے بعد سنوائی نہیں ہوتی ۔
میڈیا کو جمہوریت کا چھوتا ستون کہا جاتا ہے۔دیگر جمہوری ممالک کی طرح آئین ہند کا دفعہ 19 بھی میڈیا کی آزادی اور آزادیٔ اظہارِ رائے پر کھل کر روشنی ڈالتا ہے۔ آزادی ٔ اظہارِ رائے دستورِ ہند میں بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ بد قسمتی سے ہندوستان کا میڈیا اسوقت اپنی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں نا کام رہا ہے۔اسکی بنیادی وجہ میڈیا پر کارپوریٹ سیکٹر کا کنٹرول ہے جو اپنی مرضی سے میڈیا کو استعمال کرتا ہے۔2014 میں بھا جپا حکومت آنے کے بعد زیادہ تر میڈیا کا جھکاؤ حکومت کی طرف رہا ہے۔اسی لئے اسے 'گودی میڈیا' کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کو اینکر پرسن و صحافی رویش کمار نے مشہور کیا ۔گودی کا مطلب ہے کہ حکومت کی گود میں بیٹھ کر حکومت کی مرضی کی صحافت کرنا۔ہندوستان کی ایک بڑی آبادی ہندی بولتی، پڑھتی اور سمجھتی ہے ۔ہندوستان کا میڈیا باالخصوص ہندی چینلز اور ہندی اخبارات حکومت کی ایما پر جان بوجھ کر عوام سے حقیقت چھپاتے ہیں اور ملک کے اصل مسائل کے بجائے ان ایشوز کو کوریج دیتے ہیں جن سے موجودہ حکومت تو اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرتی ہے لیکن عوام کا ان مسائل سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا ۔
میڈیا کا لبادہ اوڑھ کر حکومتی بیانیے کو گودی میڈیا نے آگے بڑھانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ گودی میڈیا میں سر فہرست ریپبلک میڈیا نیٹ ورک آتا ہے۔ ارنب گوسوامی اس نیٹ ورک کے ایڈیٹر ان چیف ہیں ۔ارنب کی اصل وجہ شہرت ایسے ایشوز کا میڈیا ٹرائل کرنا ہے جن سے براہ راست بی جے پی کے سیاسی فوائد جڑے ہوتے ہیں۔ مثلاً ہندتوا کا پرچار۔اسی طرح کشمیر پر ارنب ہندوستان کے موجودہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی سوچ کے حامی ہیں۔ اسی طرح انکی دوسری وجہ شہرت بھاجپا حکومت کی طرح نیشنل ازم کو فروغ دینا ہے اور اس گروہ کے مطابق نیشنل ازم کا مطلب پاکستان مخالف بیانیہ ہے۔حکومت و حکومتی پالیسیوں کو تنقید کرنے والوں کو ٹکڑے ٹکڑے گینگ کہا جاتا ہے۔یہ اصطلاح بی جے پی کی طرف سے اپنے مخالفین کے لئے استعمال کی جاتی ہے اور ارنب نے اسکو اپنے ٹی وی مباحثوں میں خوب استعمال کیا۔ اسی طرح ملک میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حوالے سے بھی وہ موجودہ حکومت کے حمایتی ہیں۔حکمران جماعت بی جے پی سے ارنب کی ایک وابستگی ہے۔ان کے والد نے بھی انڈین فوج میں کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ 04 نومبر کو مہاراشٹر پولیس نے ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف کو دو سال پرانے خود کشی کے ایک کیس میں گرفتار کیا تھا ۔یہ گرفتاری ایک ایسے وقت عمل میں آئی جب مہاراشٹر پولیس کی طرف سے ریپبلک ٹی وی کو ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹس (ٹی آر پی) گھوٹالے میں پوچھ گچھ کا سامنا ہے۔8 اکتوبر کو ممبئی پولیس کے کمشنر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ریپبلک ٹی وی لوگوں کو روپے دے کر ٹی آر پی بڑھاتی ہے۔اس کیس کی تفتیش جاری ہے اور اسمیں ریپبلک کیساتھ فخت مراٹھی اور باکس سنیما نامی دو اور چینلز بھی شامل ہیں۔ جس کیس میں ارنب کو گرفتار کیا ہے وہ 2018 کا ہے۔05 مئی 2018 کو انٹیرئر ڈیزائنر انوے نائیک اپنی ماں کے ہمراہ اپنے مکان میں مرے ہوئے پائے گئے۔پولیس کو انگریزی میں ایک سیوسائڈ نوٹ ملا جس میں مبینہ طور پر یہ لکھا ہوا تھا کہ ارنب کی رپبلک ٹی وی، فیروز شیخ کی آئی سی اے ایس ٹی ایکس/سکائی میڈیا اور نتیش ساردھا کی اسمارٹ ورکس کی طرف سے اسکی اجرت نہ ملنے پر وہ اور اسکی ماں خود کشی کر رہے ہیں۔ان تینوں نے نائیک کی کمپنی کنکورڈے ڈیزائن سے کام کروایا تھا لیکن اسکی اجرت بقایہ تھی۔نوٹ کے مطابق ریپبلک ٹی وی نے 83 لاکھ جبکہ فیروز شیخ اور نتیش ساردھا نے بالترتیب 4 کروڑ اور 55 لاکھ دینے تھے۔اپریل 2019 کو کمزور شواہد کو بنیاد بنا کر نائیک فیملی کے برخلاف مہاراشٹر پولیس نے کیس کو بند کر دیا جسکی بعد میں جو ڈیشل مجسٹریٹ نے بھی توثیق کی تھی۔یہاں یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اسوقت مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومت تھی۔ اکتوبر 2019 میں مہاراشٹر میں نئے الیکشنز کے نتیجے میں شیو سینا – کانگریس- این سی پی کی اتحادی حکومت قائم ہوئی ۔رواں سال کے مئی مہینہ میں اس کیس میں دوبارہ جان پڑی جب مہاراشٹر کانگریس نے نائیک کی بیوہ کی ایک ویڈیو اپلوڈ کی جس میں وہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کا کہہ رہی ہیں۔
انواے نائیک کی بیٹی کی ریکوسٹ پر مہاراشٹر ریاست کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے کیس دوبارہ کھولنے کا حکم جاری کیا۔ خط میں نامزد دو دیگر ملزم یعنی فیروز شیخ اور نتیش ساردھا بھی کو بھی پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ارنب گوسوامی کا گرفتار کیا ہونا تھا کہ حزب اقتدار میں ایک بھونچال سا آگیا ۔مرکزی وزراء کی جانب سے ٹویٹس کی بوچھار ہونے لگی ۔ ان میں وزیر داخلہ امت شاہ، ماحولیات، جنگلات وموسمی تبدیلی کے وزیر پرکاش جاویڈکر، کامرس اور صنعت کے وزیر پیوش گویل، ٹیکسٹائل کی وزیر اسمرتی ایرانی اور قانون اور انصا ف کے وزیر روی شنکر پرساد شامل ہیں ۔ ان میں سے زیادہ تر وزراء کی گوسوامی کی گرفتاری کیخلاف ٹویٹ کا متن "کانگریس پر تنقید، اس گرفتاری کو 1975 کی ایمرجنسی سے تشبیہ اور آزادی اظہارِ رائے پر حملہ قرار دینا تھا" – مرکزی وزراء اور حکمران جماعت کی طرف سے ارنب گوسوامی کی گرفتاری کو آزادی ٔاظہارِ رائے و میڈیا پر حملہ قرار دینا نے حکومت کے لئے بہت سارے سوالوں کو جنم دیا ہے۔سوشل میڈیا پر یہ سوال سر فہرست ہے کہ درجنوں وہ صحافی جو اس حکومت پر تنقید کرنے پاداش میں جیل بھیج دیے گئے یا تشدد کا نشانہ بنایا گیا ،اسوقت انکو آزادیٔ رائے کیوں یاد نہیں آئی؟
ارنب کو جس طرح سے مہاراشٹر پولیس نے گرفتار کیا ،کیا یہ صحیح ہے یا غلط، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن مرکزی سرکار کی طرف اس ایشو کو لے کر میڈیا کی آزادی کی بات کرنا عجیب لگ رہا ہے ۔اگر یہ سرکار اتنی ہی میڈیا کی آزادی کی بات کرتی ہے تو گوری لنکیش کی ہتیا کا معاملہ ابھی تک کیوں حل نہیں ہوا۔ این ڈی ٹی وی کے رویش کمار کو جان سے مارنے کی دھمکی ایسے شخص نے دی تھی جسکو ٹویٹر پر خود وزیراعظم ہند نریندر مودی نے فالو کیا ہوا تھا۔ حال ہی حکومت کی طرف سے سرینگر میں انگریزی روزنامے کشمیر ٹائمز کے آفس کو اسلئے سیل کیا گیا کیونکہ وہ جموں و کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں و انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتا تھا -اسکے علاوہ جموں و کشمیر میں آزاد میڈیا کو دبانے کے لئے میڈیا ہاؤسز پر مرکزی ایجنسی این آئی اے کے چھاپے معمول کی بات ہے۔پچھلے مہینے کی 05 تاریخ کو یوپی پولیس نے ہاتھرس واقعہ کی کوریج کے لئے جانے والے ملیالم نیوز پورٹل کے کپن نامی صحافی کو گرفتار کیا ۔اسی طرح اکتوبر ہی کے مہینے میں منی پور کے ایک صحافی وانگ کھیم پر غداری کا مقدمہ بنایا گیا۔ وانگ کھیم کا قصور یہ تھا کہ اس نے سوشل میڈیا پر بھاجپا کے ایک سیاستدان کی بیوی کی پوسٹ پر کمنٹ کیا تھا ۔سی اے اے و این آر سی کیخلاف احتجاج کرنے والے ایکٹیوسٹس کیساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے، ڈاکٹر کفیل خان کیساتھ کیا برتاؤ کیا گیا، یہ سب کے سامنے ہے۔جن صحافیوں کو انکے فرائض کی ادائیگی کے دوران گرفتار کیا گیا، جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا گیا یا غداری کے مقدمات بنائے گئے ان کے نام گنائے جائیں تو یہ فہرست کافی لمبی ہو جائے گی۔صرف رواں سال میں ایک درجن سے زائد ایسے صحافیوں کی فہرست موجود ہے جو بی جے پی حکومت کے عتاب کا نشانہ بنے۔
(کالم نگارکا تعلق پونچھ جموںوکشمیر سے ہے اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ریسرچ سکالر ہیں)
ای میل۔[email protected]