گول//سڑک کی تعمیر میں آئی اراضی کے مالکان نے الزام لگایا کہ سلبلہ سے گگر سولہ سڑک جو پی ایم جی ایس وائی کے تحت ہے اور اس پرکئی برسوں سے کام جاری ہے وہیں محکمہ پی ایم جی ایس وائی نے کوتاہیوں پر کوہتاہی کی اور لوگوں کے نقصان کی کوئی پرواہ نہیں کی بلکہ جہاں محکمہ کو آسان ہوا وہیں پر ہی اس نے تعمیری کام شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اور کئی ایک ایسے گھرانے ہیں جن کا معاوضہ بھی لے لیا گیا لیکن محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کر کے سڑک میں آنے والے مکان کو جہاں محکمہ کو اُٹھانا تھا وہیں محکمہ نے اس کی دیواریں دے کر اسے بچایا لیا گیا۔ لوگوں نے چڑوں سے آگے آنے والی اراضی کوبہت کم معاوضے اور دوسرے مسائل پر گگر سولہ میں احتجاج کیا اور سرکار سے انصاف کی مانگ کی ۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ گگر سولہ کی اراضی جو باقی اراضی سے زرخیز ہے جہاں پر دو دو ، تین تین فصل اُ گائی جاتی ہیں لیکن اس کا معاوضہ بنجر زمین سے بہت آدھ کم رکھا گیا ہے جو یہاں کی عوام کے ساتھ سرا سر نا انصافی ہے ۔ احتجاجیوں نے محکمہ پی ایم جی ایس وائی ، سرکار اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بلند کئے اور کہا کہ کئی مرتبہ ایس ڈی ایم گول کے پاس بھی اپنی روداد لے کر گئے لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو پا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر پی ایم جی ایس وائی اثر ورسوخ کی بناء پر ہی کام کرتا ہے جہاں رہائشی مکانات اور اراضی کو نقصان پہنچ رہا ہے وہاں محکمہ ڈنگے نہیں دے رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی کام یہاں پر ہو رہا ہے وہ نہایت ہی ناقص ہے اور ابھی کام جاری ہی ہے لیکن کئی جگہوں پر یہ ڈیہہ رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کام کتنا مضبوط ہے اور محکمہ کے جے ای کی نگرانی میں ہی ناقص کام ہو رہا ہے۔ اراضی مالکان کا کہنا ہے کہ باقی جگہوں پر پانچ سے چھ لاکھ روپے فی کنال اراضی کا معاوضہ دیا گیالیکن یہاں پر صرف اڑھائی لاکھ روپے دیا جا رہا ہے جو تشویشناک ہے اور ہمیں یہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے اس معاوضے کو باقی جگہوں کی طرح ساڑھے پانچ لاکھ روپے نہیں دیا گیا تو ہم سڑک کو آباد کریں گے اس میںفصل اُگائیں گے۔لوگوں نے اس موقعہ پر یہاں پر قبرستان کے نزدیک محکمہ پی ایم جی ایس وائی نے سڑک کی کٹائی کی ہے اور تمام ملبہ قبرستان کے اوپر ہے اس کی حفاظت کے لئے کوئی دیوار نہیں دی گئی اور بارشوں کے دوران تمام پانی قبرستان میں آ جاتا ہے اور اگر جلد از جلد اس کی دیوار نہیں دی گئی تو اوپر سے کسی بھی وقت بارشوں میں اراضی کھسک کر قبرستان میں آسکتی ہے اس لئے اس سے پہلے اس کی دیواریں دی جائیں تا کہ قبرستان کو نقصان نہ پہنچ سکے ۔