بلا شبہ اخلاقی زوال فرد اور قوموں کے لئے نہ صرف ذلت ورُسوائی کا باعث بن جاتا ہے بلکہ اُنہیں غلامی کی زنجیروں میں ڈال دیتا ہے،چنانچہ اسلامی تعلیمات کی بنیاد ہی اخلاق ہے اور حق بھی یہی ہے کہ اچھا وہی ہے جس کا اخلاق اچھا ہے ،جبکہ بد خلقی ،اخلاق کو ایسا تباہ کرتی ہے جیسے سِرکہ شہد کو۔گویااخلاق اُس روحانی صلاحیت کا نام ہے جو دروازے کی شکستگی کو نظر انداز کرکے اُس کے پار کھُلے ہوئے صحن میں پھولوں کو دیکھ لیتی ہےاور درندوں اور قاتلوں کو بھی مطیع کر لیتی ہے۔
لیکن ایک لمبی مدت سے یہی دکھائی دے رہا ہے کہ بغیر مذہب و ملت دنیا بھر کے زیادہ تر انسان اخلاقیات سے بے نیاز ہو چکے ہیں اور مسلمانان ِعالم راندۂ درگاہ ہے کیونکہ اخلاقی ، دینی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری جن پر عائد ہوتی ہے، وہ غافل ہی نہیں بلکہ دنیا داری کی وجہ سے مجرمانہ حرکتوں کے مرتکب بھی ہوئےہیں ۔ ہم یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک اس کی تربیت تین دائروں میں ہوتی ہے ۔ پہلا دائرہ اس کی ماں کی گود اور گھر کا آنگن ہے ۔ ماہرین نفسیات اور انسانی پرورش کے عوامل پر محققین کی مشترکہ آراء ہے کہ ایک بچہ پانچ سال کی عمر کو پہنچتے پہنچتے ذہنی طور پر بنیادی معلومات پر مکمل با خبر ہو جاتا ہے اور گھر میں والدین اور گھر والوں سے جو کچھ بھی دیکھتا سُنتا ہے اور بچپن میں جو عادت اس کو لگ جاتی ہیں، ساری زندگی اس سے متاثر رہتا ہے بلکہ اس کا اعادہ کرتا ہے ۔ بہت سارے ترقی یافتہ ممالک میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو اسکول میں داخل نہیں کرتے ۔ بر صغیر کے ممالک میں بھی سرکاری اسکولوں میں یہ پابندی ہے ۔ مسلم گھرانوں میں ان پانچ برسوںمیں یہ کوشش ہوتی ہے کہ بچے قائدہ پڑھنا سیکھ کر قرآن مجید پڑھ لیں ۔ مگر تعلیم کو تجارت بنانے والوں اور معاشی تگ و دَو میں مصروف والدین ڈھائی سال کی عمر میں ہی کنڈر گارٹن اور پلے لینڈ کلاسوں میں بچوں کو داخل کرا دیتے ہیں، جہاں بچے کو اپنے معاشرے اور اخلاقی اقدار سے ماوراء کارٹون اور دیگر مصروفیات کے ذریعے کچھ سکھایا جاتا ہے اور بچہ والدین کی تربیت اور محبت سے محروم ہو جاتا ہے ۔اسی طرح بچوں کو برانڈیڈ اسکول جہاں مہنگی فیسوں کے ساتھ بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے ،وہاںاخلاقی تعلیم تو کُجا بچوں کو ماں باپ کے احترام کرنے سے بھی دور کر دیا جاتا ہے ۔
یہ بات آسانی سے کہی جا سکتی ہے کہ جو بچے والدین کا احترام نہیں کرتے ،وہ دوسروں کا احترام کیا کریں گے ۔ تعلیم جس کا مقصد اپنے دین ، اپنی تہذیب اور معاشرتی اقدار اور علم و ہنر کو منتقل کرنا ہے، اس سے ہٹ کر ایک پیسہ کمانے والی مشین اور مادہ پرست انسان بنایا جاتا ہے، وہ کیسے اخلاقی قدروں کو اہمیت دے گا ۔ آج پوری دنیا جس بھیانک انجام سے دوچار ہو رہی ہے، یہ سب اُن لوگوں کے ہاتھوں ہو رہا ہے جو نام نہاد اعلیٰ تعلیمی اداروں کے تعلیم یافتہ افراد ہیں ۔ بے شک سب سے اہم ذمہ داری حکومتِ وقت کی ہوتی ہے جو اپنی عوام اور نسلِ نو کی آبیاری کے لئے ہر وہ قدم اُٹھائے جو اُس کو ایک اچھا انسان بنائے اور بگاڑ کو روکنے کے لئے قانون سازی کرے اور اس کے نفاذ میں کسی طرح طبقاتی رویہ اختیار نہ کرے، مگرشومئ قسمت ! آج کے حکمران خود چلتے پھرتے عاداتِ بَد اورخراب چلن کا نمونہ بن چکے ہیں۔ چونکہ یہ دورپُر فتن ہے اور فتنہ عالمی اقتدار کا مالک ہے، لہٰذا ہر بُرائی اور اخلاقی بگاڑ کو انسانی حقوق کا نام دے کر اس کو جائز قرار دیدیا گیا ہے ۔ اگر کوئی اس کو روکنے کی کوشش کرتا ہے، اُسے انسان دشمن قرار دے پابند سلاسل کر دیا جا رہا ہے ۔ جن ممالک میں انتظامی صورت حال قابلِ رشک ہیں ،وہاں انسانی اخلاقیات حیوانی لبادہ اوڑھ چکی ہے، حتیٰ کہ رشتوں کا تقدس بھی پامال ہو چکا ہے ۔اخلاقی دنیا پر ایٹمی اور مہلک ہتھیاروں سے جو دجالی قوتیں حملہ آور ہیں ،وہ جدید دور کا میڈیا ہے، جس نے انسانوں کو حیوانیت کا لباس پہنانے میں پوری قوت سے بر سر پیکار ہے ۔ اِس نے بچے و بوڑھے ہر کسی کو دیوانہ بنا رکھا ہے اور اب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جیسے جدید دور کے میڈیانے دنیا سے انسانیت کو ختم کرنے کا بیڑا اُٹھا رکھا ہے ۔ اس لئے معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ اس دائرہ ٔاثر میں جو افراد میں آئے ہوئے ہیں ،اُنہیں اخلاق اور نیکی کی طرف بلا یا جائے۔