ملک منظور
ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک چھوٹے سے پرسکون گاؤں میں “موتی” نامی ایک آوارہ کتا رہتا تھا۔ گاؤں کے لوگ سادہ، دل کے سچے اور محنتی تھے، جن کی صبح مشقت سے شروع اور شام تھکن پر ختم ہوتی۔ موتی اکثر گاؤں کی دھول اُڑاتے ہوئے سوچتا کہ شہر کی زندگی کتنی رنگین، پرآسائش اور باوقار ہوگی! وہاں شاید ہر نکڑ پر لذیذ کھانوں کے ڈھیر ہوں گے، نہ پیٹ کی بھوک کا خوف ہوگا اور نہ لاٹھی مارنے والے دیہاتیوں کا ڈر۔ آخرکار، ایک دن اس نے شہرِ آرزو کی سیر کا پختہ ارادہ کر ہی لیا۔
شہر کا سفر طویل اور کٹھن تھا۔ پیدل چلنا بس کی بات نہ تھی، چنانچہ موتی نے سڑک کنارے کھڑی ایک کار میں سوار ہونے کی کوشش کی مگر ڈرائیور نے ایک بھاری پتھر مار کر اسے دور بھگا دیا۔ موتی نے درد سے بل کھا کر خود کو چاٹتے ہوئے افسردگی سے کہا
“توبہ ہے! اس دنیا میں کتوں کی تو کوئی عزت ہی نہیں ہے۔ اگر میں کوئی غیر ملکی بلی ہوتا، تو اب تک کسی میم صاحب کی گود میں بیٹھ کر میاؤں میاؤں کر رہا ہوتا!”
اگلے دن، ہمت بٹور کر اس نے ایک چلتے ہوئے آٹو رکشہ پر چھلانگ لگا دی۔ آٹو کی رفتار تیز تھی اور سڑک کے گڑھے بے رحم۔ چند ہی لمحوں میں موتی توازن برقرار نہ رکھ سکا اور اچھل کر سیدھا پکی سڑک پر جا گرا۔ اس کی کمر میں شدید چوٹ آئی۔ وہ وہیں سڑک کنارے بیٹھ کر درد سے کراہتے ہوئے بڑبڑایا
“آہ! لگتا ہے میری کمر تو جوانی میں ہی بوڑھی ہو گئی ۔ابھی تو میں نے اچھے دن بھی نہیں دیکھے تھے اور شادی کا لڈو تو دور کی بات ہے!”
مگر شہر پہنچنے کی دھن سوار تھی، لہذا وہ لنگڑاتا ہوا پیدل ہی چل پڑا۔ جیسے ہی اس نے گاؤں کی حدود پار کیں، اس کا دل ایک انجانی خوشی اور آزادی کے احساس سے بھر گیا۔ وہ مستی میں جھومتا ہوا جا رہا تھا کہ اچانک پیچھے سے غراہٹوں اور خوفناک بھونکنے کی آوازیں آئیں۔ مڑ کر دیکھا تو پڑوسی علاقے کے کئی کتے دانت نکالے اس کی طرف لپک رہے تھے۔ موتی اپنی چوٹ بھول کر جان بچانے کے لیے سرپٹ بھاگا۔ بھاگتے بھاگتے اس کی زبان باہر نکل آئی اور پھیپھڑے پھٹنے لگے۔
کسی طرح جان چھڑا کر ایک درخت کے سائے تلے ہانپتے ہوئے وہ بولا “یہ کتے ہیں یا سرحد پر کھڑا فوجی دستہ ؟ ہر نئے آنے والے کی ایسے تلاشی لیتے ہیں جیسے میں کوئی اسمگلر ہوں!”
ابھی وہ سستانے ہی لگا تھا کہ ایک بالشت بھر کے ننھے کتے نے اس کے سامنے آ کر کان پھاڑنے والا راگ شروع کر دیا۔ موتی نے غصے اور بیزاری سے اسے دیکھا اور کہا
“کیا زمانہ آ گیا ہے! ابھی تمہارے دودھ کے دانت بھی نہیں ٹوٹے اور بڑوں کو آنکھیں دکھا رہے ہو؟”
ننھا کتا دم ہلا ہلا کر اور اونچی آواز میں بھونکنے لگا۔ موتی نے تأسف سے سر ہلا کر کہا”لگتا ہے یہ کسی نیوز چینل کا اینکر ہے، جسے ہدف ملا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے بس بولے جانا ہے!”
سفر جوں جوں طویل ہو رہا تھا، بھوک اور پیاس اس کا خون چوس رہی تھیں۔ وہ نڈھال ہو کر کھانے کی تلاش میں زمین سونگھنے لگا۔ کچھ دور اسے سڑے ہوئے گوشت کی تیز بو آئی۔ بھوک کے مارے اس کا ضمیر سو چکا تھا، وہ جلدی سے وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ایک ہڈیوں کا ڈھانچہ بنی کتیا مردار کا ایک ٹکڑا نوچ رہی ہے۔ موتی نے بڑی عاجزی اور احتیاط سے ایک لقمہ لینے کے لیے منہ آگے بڑھایا ہی تھا کہ وہ کتیا شیرنی کی طرح غرا کر اس پر جھپٹ پڑی۔
موتی دو قدم پیچھے ہٹ کر سہمے ہوئے انداز میں بولا “ارے بہن! غصہ کیوں کرتی ہو؟ میں چوری نہیں کر رہا، بس ذرا نمک چکھ رہا تھا!”
مگر مصیبت اکیلی نہیں آتی۔ اچانک نہ جانے کہاں سے آوارہ کتوں کا ایک پورا غول نمودار ہوا اور انہوں نے موتی کو گھیرے میں لے لیا۔ موتی نے دُم دبا کر منت کی “دوستو! میں مسافر ہوں، بہت بھوکا ہوں، خدا کے لئے مجھے بھی تھوڑا سا حصہ دے دو۔”
ایک موٹے کتے نے آگے بڑھ کر ایک ہولناک غراہٹ ماری، تو موتی نے فوراً پیترا بدلا
“ٹھیک ہے بھائی، غصہ کیوں ہوتے ہو، تم ہی کھاؤ! ویسے بھی تمہاری صحت دیکھ کر لگتا ہے تم دن میں تین نہیں، چھ مرتبہ کھاتے ہو!”
لیکن سڑک کے اس قانون میں رحم کا کوئی خانہ نہ تھا۔ پورا غول اس پر ٹوٹ پڑا۔ موتی چیختا، چلاتا اور اپنے زخموں کو بچاتا ہوا وہاں سے الٹے قدموں بھاگ نکلا۔ دور جا کر، ایک سڑک کے کنارے زخم چاٹتے ہوئے وہ انتہائی مایوسی سے بولا “کتوں کو اپنی نسل کی بھوک سے زیادہ مردار عزیز ہے کاش ہم کتے نہ ہوتے!”
پھر لمحہ بھر کو رکا، آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہنے لگا “ویسے اگر ہم انسان ہوتے، تو اس سے بھی بدتر ہوتے۔ سارا دن موبائل ہاتھ میں پکڑ کر ریلز (Reels) دیکھتے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے!”
وہ ابھی انہی فلسفیانہ سوچوں میں گم تھا کہ قریب ہی کھیلتے ہوئے ایک بچے کی نظر اس پر پڑی۔ بچے نے اسے دیکھ کر خوف اور نفرت سے رونا اور چیخنا شروع کر دیا۔ موتی کو لگا کہ یہ انسان بھی اسے یہاں زنجیر سے باندھنا یا بھگانا چاہتا ہے۔ اس نے غصے میں آ کر ایک زوردار غراہٹ ماری۔ بچہ ڈر کر بھاگ گیا، لیکن موتی کا دل ایک بار پھر اداس ہو گیا۔ وہ ایک ٹھنڈی آہ بھر کر بولا
“یہ انسان کے بچے بھی عجیب مخلوق ہیں۔ خود مہنگی چاکلیٹیں اڑائیں گے، مگر ہمیں ایک سوکھا بسکٹ ڈالتے ہوئے بھی ان کی جان نکلتی ہے!”
کچھ ہی دیر میں وہاں سے ایک اسکول بس گزری۔ ایک شرارتی بچے نے آدھا کھایا ہوا برگر کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ موتی نے وقت ضائع کیے بغیر اس پر جھپٹا مارا اور پلک جھپکنے میں اسے چٹ کر گیا۔ کئی دنوں بعد اس کے پیٹ میں کچھ گیا تھا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر شکر ادا کیا اور سوچنے لگا “بے شک، وہ پتھر میں بند کیڑے کو بھی رزق دینے والا ہے۔ انسانوں کے پاس کتنی نعمتیں ہیں، مگر افسوس کہ ان کی پامالی ان کا شیوہ بن چکی ہے۔”
پھر ایک ہڈی چباتے ہوئے طنزیہ ہنسا “اور کچھ بچے تو کھانا زمین پر ایسے پھینکتے ہیں جیسے ان کے باپ دادا نے ہوم ڈیلیوری کا ہوٹل کھول رکھا ہو!”
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور شہر کی بلند و بالا عمارتیں سامنے کھڑی تھیں۔ اب موتی کے دل میں ایک نیا خوف سر اٹھانے لگا تھا”اگر گاؤں کے سست کتوں نے مجھے قبول نہیں کیا، تو اس بے رحم اور تیز رفتار شہر میں مجھے کون پناہ دے گا؟”
مگر پھر اس نے اپنے کان کھڑے کئے اور خود کو حوصلہ دیا “اگر جینا ہے تو سینہ تان کر لڑنا ہوگا، ورنہ یہ دنیا کچل کر گزر جائے گی۔ اگر زیادہ مسئلہ ہوا، تو کسی پارک کا مستقل رہائشی بن کر ماڈرن کتا بن جاؤں گا!”
وہ رات اس نے ایک بند دکان کے تھڑے کے نیچے چھپ کر گزاری۔ صبح ہوتے ہی اس کی ملاقات ایک معصوم، چھوٹے پلے سے ہوئی۔ دونوں میں جلدی دوستی ہو گئی اور وہ کھیلنے لگے۔ اتنے میں اس پلے کی ماں، جو ایک بوڑھی سڑک چھاپ کتیا تھی، اپنے بچے کو خطرے میں دیکھ کر غصے سے موتی پر لپکی۔ موتی طاقتور تھا، وہ چاہتا تو اسے پچھاڑ سکتا تھا، لیکن اس نے صرف اپنا بچاؤ کیا اور پیچھے ہٹ گیا۔
وہ کتیا اگرچہ بوڑھی اور کمزور تھی، مگر اپنے بچے کی حفاظت کے لئے جان دینے کو تیار تھی۔ موتی کی اس شرافت اور برداشت نے اس کا دل پگھلا دیا۔ اس نے غراہٹ بند کی اور موتی کو اپنے قبیلے میں رہنے کی اجازت دے دی۔
اب موتی شہر کا مستقل باسی بن چکا تھا۔ یہاں واقعی کھانے کی کوئی کمی نہ تھی۔ روزانہ کسی نہ کسی شادی ہال یا ریسٹورنٹ کے باہر بچا ہوا لذیذ کھانا مل جاتا۔ کبھی مٹکے کی بریانی، کبھی چکن کڑھائی، تو کبھی شاہی مٹھائیاں۔
ایک دن، چکن کا ایک بڑا ٹکڑا چباتے ہوئے موتی نے حیرت سے اس بوڑھی کتیا سے پوچھا “اماں! یہ اتنا شاہانہ اور لذیذ کھانا روزانہ کچرے کے ڈھیر پر کہاں سے آ جاتا ہے؟”
کتیا نے ایک سرد آہ بھری اور دھیمے سے بولی “یہ انسانوں کے اسراف اور ہمارے صبر کا میٹھا پھل ہے۔ بس چپ چاپ کھاتے رہو اور سوال نہ کرو۔”
موتی نے ہنستے ہوئے جواب دیا
“واہ اماں واہ! کیا نظام ہے! یعنی انسان اندر ا س ہال میں بیٹھ کر عیاشی اور پارٹیاں کریں، اور باہر ہم ان کی صفائی مہم چلائیں!”
مگر موتی کا دیہاتی تجسس خاموش نہ ہوا۔ وہ دوبارہ بولا “نہیں اماں، مجھے یہ بتاؤ کہ یہ کون لوگ ہیں جو خدا کی دی ہوئی اتنی قیمتی نعمتوں کو اس طرح پاؤں تلے روندتے ہیں؟ کیا انہیں سچی بھوک نہیں لگتی؟”
کتیا کچھ دیر خاموش رہی، اس کی بوڑھی آنکھوں میں دنیا کا تجربہ جھلک رہا تھا، وہ دھیمے مگر بھاری لہجے میں بولی
“بیٹا! یہ وہ لوگ ہیں جن کے پیٹ کبھی بھوکے نہیں ہوتے، یہ صرف زبان کے چٹورے اور دکھاوے کے اسیر ہیں۔ جس دن ان کو سچی اور تڑپا دینے والی بھوک لگے گی نا، اس دن یہ زمین پر گرے ہوئے ایک ایک دانے کو چوم کر آنکھوں سے لگائیں گے۔”
موتی یہ سن کر ساکت رہ گیا۔ اس کے ذہن کے پردے پر اچانک اپنے گاؤں کے وہ غریب کسان گھوم گئے، جو کڑکتی دھوپ میں خون پسینہ ایک کر کے زمین کا سینہ چاک کرتے تھے اور تب جا کر گندم کا ایک دانہ اگتا تھا۔ اس کی آنکھوں کا ہنستا ہوا رنگ یکسر غائب ہو گیا اور وہ گہری سنجیدگی میں ڈوب گیا۔
اس نے ایک طویل سانس لی، شہر کے چمکتے ہوئے ایک شادی کےہال کی طرف دیکھا جہاں سے ابھی ابھی ٹنوں کھانا کچرے میں پھینکا گیا تھا اور مسکرا کر بولا
“اماں! اب میں سمجھا۔ اصل میں اس دنیا میں دو طرح کی بھوک ہے ایک وہ جو غریب کے پیٹ میں ہوتی ہے، اور دوسری وہ جو امیر کی پلیٹ بھر کر موبائل سے تصویر کھینچنے کی ہوتی ہے!”
یہ کہہ کر موتی نے اپنا سر اپنے پیروں پر رکھ لیا۔ اس دن زندگی میں پہلی بار اسے یہ شعور ملا تھا کہ دنیا میں سب سے بڑا قحط اناج کا نہیں، بلکہ “احساس” کا ہے۔
���
قصبہ کھُل کولگام ،موبائل نمبر؛9906598163