اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ میں خدا سے محبت کرتا ہوں اور کسی وجہ سے اپنے بھائی ، ہمسایہ یا رشتہ دار سے نفرت کرتا ہوں توظاہر ہے وہ جھوٹا اور مکار ہے کیونکہ اصل میں مخلوق کی محبت ہی خالق کی محبت ہے ۔جو چیزیں خدا اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نا پسند ہیں،ان چیزوں سے محبت کرو گے تو خدا اور رسولؐ کے دوست کیسے بن جائوگے؟ اب اگراس وبائی صورت حال کے پیش نظر لاک ڈاون کے دوران ہم منصفانہ اور دیانتدارانہ طریقے پر اپنے روایتی وطیرہ، مزاج و نفسیات کا جائزہ لیں گے تو بخوبی اس بات کے نہ صرف قائل ہوجائیں گے بلکہ اعتراف بھی کریں گے کہ ہم لوگوں کی سب سے بڑی خرابی یہی رہی ہے انسان ہوکر بھی انسانیت کا سبق نہیں سیکھا ہے اور بحیثیت انسان ہر انسان کو انسان نہیں سمجھا ہے۔مثلاًاگر ہم نے کسی سیاسی،مذہبی یاسماجی تنظیم کے ساتھ وابستہ کسی شخص کویا کسی ہمسایہ کو یا کسی رشتہ دارکو اچھا انسان مان لیا ہے توبس اُسے بالکل فرشتہ قرار دیاہے۔اسی طرح اگر کسی شخص کو اچھا انسان نہیں ماناتو اُسے شیطان کا نام دیا ہے۔جس کو فرشتہ مانا ہے ، اُسے ہر عیب سے پاک اور ہر خوبی سے پُر تسلیم کرنے اور کرانے پر مُصر رہے اور جسے شیطان سمجھا، اُس کی کوئی بھی خوبی تسلیم نہ کرکے اُس میں طرح طرح کی عیب جوئی کرتے رہے ۔حالانکہ کوئی انسان نہ تو بالکل فرشتہ ہوتا ہے اور نہ ہی بالکل شیطان، کیونکہ ہر انسان میں کچھ خوبیاں ہوتی ہیںاور کچھ خامیاں بھی ۔مگر بحیثیت خود انسان ہونے کے ناطے دوسرے انسان کو انسان نہیں مان رہے ہیں ۔دوسری قوموں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ خوبیوں کو اُجاگر کرتی ہیں اور خامیوں کی پردہ پوشی کرتی ہیں،نہ کسی کو بالکل آسمان پر چڑھاتی ہیں اور نہ بالکل ہی زمین پر پٹخ دیتی ہیں۔ نہ وہ کسی شخصیت کی اندھی تقلید میں مبتلا ہوتی ہیں اور نہ ہی اُس سے اختلافِ رائے رکھنے والے کسی بھی شخص کی دشمنی میں حدیں پھلانگتی ہیں۔مگرکشمیر ی قوم کے مزاج و نفسیات کی اس بے اعتدالی کے مرض نے اس قوم میں انفرادی طور اور اجتماعی طور پرطرح طرح کی مشکلات اور مسائل پیدا کردئے ہیں ۔ اصول پسندی کے بجائے شخصیت پرستی نے قسم قسم کے اختلافات اور انتشار کو جنم دیا ہے۔ہم جس شخصیت سے محبت کرتے ہیں ،اُس کے بارے میں اتنے غلو سے کام لیتے ہیں کہ ہر خوبی ہمیں اُسی میں نظر آتی ہے ،خواہ وہ دینی اعتبار سے ہو یا علمی و سیاسی اعتبار سے ،ہمسائیگی کا تعلق ہو یا رشتہ داری سے منسلک ہو۔ہم اگر اُسے بڑا عالم سمجھیں گے تو سب سے بڑا زاہد و متقی اور مرشد و رہنما بھی۔اس کی کسی خامی کو ہرگزتسلیم نہیں کریں گے ،نہ اُس کی کسی رائے سے اختلاف کو برداشت کریں گے،چاہے وہ رائے بجائے خود غلط ہی کیوں نہ ہو۔اسی طرح جس شخصیت کو ہم ناپسند کرتے ہیں ،اُس میں ہمیں دنیا بھر کے عیب نظر آنے لگتے ہیں ،ہم نہ اُس کے دین کا اعتبار کرتے ہیںاور نہ اُس کے علم و دانش کا ۔حالانکہ یہ بات قوم کے ہرفرد کے لئے اہم ہے اور جماعت کے لئے بھی کہ ہر کام غور وخوض کے بعد نہایت سوچ سمجھ کے ساتھ کریں،وقتی اشتعال میں آکر اپنی راہ کھوٹی نہ کریںاور نہ اپنے جائز اور بہترین طے شدہ راستے سے ہٹیں۔لیکن ہمارا مزاج ایسا بگڑ کر رہ گیا ہے کہ ہم بہت جلد اشتعال میں آکر کوئی بھی غلط قدم اٹھالیتے ہیں اور انجام کار ہمیں زیادہ تر پسپائی ،ناکامی اور رسوائی سے ہی دوچار ہونا پڑتا ہے۔اسلام نے ہمیں صبر و تحمل سے کام لینے کی تعلیم دی ہے اور سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے اور پھر قدم اٹھانے کے بعد پامردی اور استقامت سے کام لینے کا درس دیا ہے لیکن ہم ہیں کہ آگ کے شعلوں کی طرح بھڑک جاتے ہیں اور پانی کے چند چھینٹوں سے بالکل بُجھ بھی جاتے ہیں۔جتنی جلد ناراض ہوجاتے ہیں ،اُ تنی ہی تیزی سے خوش بھی ہوجاتے ہیں، بہل بھی جاتے ہیں۔قوموں کی زندگی میں دور اندیشی اور منصوبہ بند طریقے سے کام کرنے کی بنیادی اہمیت ہے اور ہمیں گویا ان ہی چیزوںسے دشمنی ہے۔حالانکہ ایک عاقبت اندیش انسان ہی باشعور اور دور اندیش ہوتا ہے۔جو سُود و زیان کی پرواہ کئے بغیر دنیا اور آخرت کی فکر کرتا ہے اورجو انسان ان چیزوں سے عاری ہوتا ہے ،وہ دوسروں کو بُرائیوں کے خیموںمیں ہی لے جاتا ہے،جس کے اثرات اس کی انفرادی زندگی پر ہی نہیں بلکہ قوم کی اجتماعی زندگی پر پڑتے رہتے ہیںاور پھر ایسے امراض جنم لیتے ہیں کہ وہ جینے کے لائق نہیں رہ جاتی ہے۔
لاک ڈاون کے ان ایام میںاگر ہم اپنی قومی تاریخ کا بہ نظر غائر جائزہ لیں تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اس قوم کے بیشتر امراض کی بنیاد ہمارا مزاج ، ہماری نفسیات اور ہمار غیر ذمہ دارانہ وطیرہ ہی رہا ہے ،جس کی اصل جڑ ہماری موروثیت ہے ۔وارثت کی ہی بنیاد پر نااہل لوگ کلیدی جگہوں پر فائز ہوتے رہے ، جن کے غلط فیصلے آج بھی ہم پر بھاری پڑرہے ہیں،جن کی وجہ سے طرح طرح کی بُرائیوں نے قوم کے جسم کو دیمک کی طرح چاٹ کر کمزور کر کے رکھ چھوڑا ہے ،اسی موروثی طریقے نے یہاں کے علم و فضل اور تعلیم و ارشاد کی بڑی بڑی مسندوں کو بے اثر کراکے انہیں انحراف و گمراہی تک کا ذریعہ بنا ڈالا۔اسی موروثی طریقے نے یہاں کی سیاست کو خرافات میں بدل کر اس قوم کے گلے میں غلامی کا طوق بھی ڈال دیا ہے ۔اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے رہنمائوں اور بڑے لوگوں نے عالی ظرفی،کشادہ ذہنی،وسیع القلبی اور اختلافِ رائے کی صورت میں روا داری سے کام لینے کی بہترین اور روشن مثالیں پیش کررکھی ہیں ،اس لئے ہمیں بھی وہیں انداز اختیار کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے تھی۔دوسری قوموں میں باوجود شدید اختلاف کے آپس میں اتحاد ہے ،اتفاق ہے ،ایک دوسرے کی رائے کی مخالفت کے باوجود وقعت ہے ،وہ درپردہ نہیںبلکہ علی الاعلان آپس میں مشورے بھی کرلیتے ہیں ۔اس لئے ہمیں بھی ماضی کے اختلافات میںاُلجھ کر ذہنی ورزش میں مصروف نہیں ہونا چاہئے ۔اپنی اس وادی میں آج بہت سے سیاسی ادارے ،تنظیمیں اور جماعتیں اپنے طور پر اس قوم کی خدمت ،اس کی سر بلندی اور بہتری کے لئے کام کرنے کا دعویٰ کررہی ہیں۔ہر جماعت اور ہر تنظیم میں مخلص لوگ بھی ہوتے ہیں اور کچھ غیر مخلص بھی۔حکمت و دانش اور فہم وبصیرت والے بھی ہوتے ہیںاور کچھ کم سواد اور کج فہم بھی وابستہ ہوجاتے ہیں لیکن قوم کی عا م مصلحت اسی میں ہے کہ خلوص کے تقاضوں پر حرف نہ آنے دیا جائے اور کج فہمی و تنگدلی کو غالب آنے کا موقع نہ دیا جائے ۔خوش گمانی سے کام لینے اور بدگمانی سے بچنے کی ہمیں آخر کس لئے ہدایت دی گئی ہے ؟ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ آج پوری قوم سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے اچھے بُرے کاموں سے واقف ہوچکی ہے اور اپنے رہنمائوں کی ایک ایک بات تول چکی ہے۔اکثر لوگ اب محسوس کرتے ہیں کہ ہماری پوری توجہ فروعی چیزوں میںاُلجھے بغیر بنیادی مسئلے کی طرف ہونی چاہئے ۔موجودہ عالمی وباء کو بھی دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے بعض اغیاروں نے اس بیماری کے جرثوم کا تعلق ایک مخصوص مذہب سے منسلک ایک طبقہ کے ساتھ جوڑدیا ہے۔حالانکہ اس وائرس نے پوری دنیا کا نظام تہہ و بالا کردیا ہے اور عملی طور دنیا وی نظام ساکت کرکرکھ دیا ہے۔اب اس وباء کو ہم کرونا کہیں یا پھر قدرت کا عذاب ،ساری دنیا کو ویران و سنسان کرکے رکھ دیا ہے ۔عجب نفسا نفسی کا عالم ہے،سماجی فاصلہ بنائے رکھنا زندگی کا ضابطہ بن گیا ہے۔جبکہ ان حالات میں ہمارے یہاں کے ایک قلیل طبقہ کے سوائے باقی سب لوگوں کی حالت غیر ہے ،یہ آفت ہمارے لئے کچھ مواقع بھی لے کر آئی ہے ،خصوصاً اپنے اپنے گھروں کے اندر بیٹھے بیٹھے جہاں ہمیں خود احتسابی کا موقعہ ملا ہے وہاں قربت الٰہی کا بھی نادر وقت بھی ہاتھ میں لگا ہے ۔ان صبر آزما مشکل حالات میں ہمار ا دین ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ جہاں ہم اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے ضروریات زندگی کی سہولیات کا بندوبست کریں وہیں ہم اُن لوگوں کو ہرگز نہ بھولیں، جنہیں ان مشکل اور غمگین حالات میں ہماری مدد کی ضرورت ہے۔اس لئے ہمیں اپنے روایتی مزاج اور نفسیات سے ہٹ کر اپنے اصل کی طرف لوٹنے کانادر موقع ملا ہے تاکہ ہم انسان اورانسانیت کو صحیح معنوں میں سمجھیںاوراپنی بقاء قائم رکھنے کے لئے غور و فکر کریں ۔ہم نے بہت سارا وقت بُرائیوں ،خرابیوں اور خرافات میں ضائع کردیا ہے جس کے نتیجہ میںسوائے پچھتاوے کے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوا ہے ،ہم اپنی نفسیات و مزاج سے دوسروں کی نفسیات سے کھیلتے رہے اور جب بھی کوئی مشکل گھڑی آئی تو دوسروں کو انسانیت کا سبق تو دیتے رہے مگرخود انسانیت کا خیال نہیں رکھا ۔آج موقع ہے کہ ہم اس بے قاعدہ زندگی سے باز آجائیں،اللہ سے اس کا فضل طلب کریں تاکہ ہمیں اس وبائی بیماری سے نجات ملے۔ ورنہ ہمارے پاس جو کچھ بھی باقی بچا ہے ،وہ بھی فنا ہوجائے گا؟
احمد نگرسرینگر
9697334305