عظمیٰ نیوز سروس
لکھنو//اتر پردیش کا ضلع سہارنپور جہاں لکڑی کی خوبصورت نقاشی کیلئے مشہور ہے، وہیں یہاں کے ذائقے دار اور خوشبودار آم دشہری، چوسہ، لنگڑا اور رام کیلا دنیا بھر میں اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔ جاپان، یورپ اور امریکہ سمیت کئی ممالک میں ان آموں کو بھاری قیمت پر برآمد کیا جاتا ہے، لیکن اس سال موسمی تبدیلیوں، بے موسم بارش اور ژالہ باری کے باعث آم کی پیداوار میں تقریبا ً40فیصد کمی کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ضلع باغبانی افسرگم پال سنگھ نے پیر کے روز بتایا کہ گزشتہ سال ضلع سہارنپور میں تقریبا 4 لاکھ 78 ہزار 800 میٹرک ٹن آم کی پیداوار ہوئی تھی۔ ضلع میں بہیٹ کی فروٹ بیلٹ سمیت تقریبا 27 ہزار ہیکٹیئر رقبے پر آم کی کاشت کی جاتی ہے۔