عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز لوک بھون آڈیٹوریم، سرینگر میں ملی ٹینسی متاثرہ خاندانوں کے افراد کو سرکاری ملازمتوں کے تقرری نامے سونپے۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو انصاف، روزگار اور باوقار زندگی فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر کی انتظامیہ ہر متاثرہ خاندان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور ہر ممکن مدد جاری رکھے گی۔
منوج سنہا نے کہا کہ ملی ٹینسی کے متاثرہ خاندانوں کو سرکاری ملازمتیں دینے کا یہ اقدام تقریباً 13 ماہ قبل اس وقت شروع ہوا، جب کشمیر صوبہ کے کچھ متاثرہ خاندانوں نے ان سے ملاقات کر کے اپنے دردناک تجربات بیان کئے ۔ انہوں نے کہاان کی کہانیاں سن کر میں بہت متاثر ہوا اور ہم نے فیصلہ کیا کہ حقیقی مستحقین کی نشاندہی کر کے ان کی بازآبادکاری کی جائے اور انہیں سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں۔ایل جی نے بتایا کہ آج کشمیر صوبہ کے 39 خاندانوں کو تقرری نامے دیے گئے، جبکہ اس سے قبل جموں میں 41 خاندانوں کو یہ سہولت دی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوگام میں حالیہ دھماکے سے متاثرہ 9 خاندانوں کو بھی جمعہ کی شام ملازمت کے تقرری نامے دیے گئے۔ “اس سال اب تک 200 سے زائد متاثرہ خاندانوں کے افراد کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی جا چکی ہیں۔
اپنی ملاقاتوں کو یاد کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ انہوں نے کئی ایسے خاندانوں سے ملاقات کی جو ملی ٹینسی میں اپنے پیاروں کو کھو بیٹھے اور برسوں تک خاموشی میں جدوجہد کرتے رہے۔ انہوں نے کہا، ایک شخص نے مجھے بتایا کہ اس کی ماں کو اس کی پرورش کے لیے بھیک مانگنی پڑی کیونکہ ان کا گھر تباہ ہو چکا تھا۔ کئی بچے والدین کے بغیر بڑے ہوئے، لیکن ان کی مدد کے لیے کوئی آگے نہیں آیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ انتظامیہ نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ ملی ٹینسی کے دوران متاثرہ خاندانوں کی جو جائیدادیں چھین لی گئی تھیں، انہیں ان کے اصل مالکان کو واپس دلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ہم یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ کوئی بھی مستحق خاندان پیچھے نہ رہ جائے۔ جن معاملات میں ایف آئی آر درج نہیں ہوئیں، ان کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور انصاف فراہم کیا جائے گا۔
منوج سنہا نے کہا کہ دہائیوں تک ملی ٹینسی سے واقعی متاثر ہونے والوں کو نظرانداز کیا گیا، جبکہ ملی ٹینسی کے نیٹ ورک سے وابستہ افرادناجائز فائدے اٹھاتے رہے۔ انہوں نے کہا، ایک وقت تھا جب بے گناہ شہریوں کو قتل کیا جا رہا تھا، لیکن ملی ٹینسی کا پورا نظام فروغ پا رہا تھا۔ متاثرہ خاندان خاموشی سے تکلیف اٹھاتے رہے، جبکہ ملی ٹینسی کے ہمدرد مراعات سے لطف اندوز ہوتے رہے۔انہوں نے اسے ایک ’’دردناک تضاد‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ کبھی ملی ٹینٹوں کے جنازوں کو شان و شوکت کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا، جبکہ اصل متاثرین کو فراموش کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا،ہم اس ناانصافی کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔ جو لوگ آج ملی ٹینسی کی تعریف یا حمایت کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ایل جی نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملی ٹینسی سے براہِ راست یا بالواسطہ تعلق رکھنے والے کئی سرکاری ملازمین کو برطرف کیا گیا ہے اور اداروں کو ملی ٹینسی کے اثر و رسوخ سے پاک کرنے کا عمل جاری رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ جھوٹے بیانیے پھیلانے اور ملی ٹینسی کی مدد کرنے والے ہر فرد کی نشاندہی کی جائے گی اور اسے سزا دی جائے گی۔اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ انتظامیہ جموں و کشمیر کو مکمل طور پر ملی ٹینسی اور اس کے نیٹ ورک سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملی ٹینسی کی کسی بھی شکل میں حمایت کرنے والوں کو سخت ترین سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امن کا تحفظ اور یہ یقینی بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ کوئی اور خاندان دوبارہ اس درد سے نہ گزرے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران بازآبادکاری کے عمل میں تیزی لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہاپہلے کچھ خاندانوں کو دہائیوں تک مدد کے لیے انتظار کرنا پڑا، اب ہم بروقت انصاف کو یقینی بنا رہے ہیں۔ یہ اقدام اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہر متاثرہ خاندان کو انصاف نہیں مل جاتا۔اس پروگرام میں سینئر افسران، صوبائی کمیشنر کشمیر انشو ل گرگ اور متاثرہ خاندانوں کے افراد نے شرکت کی۔ آخر میں لیفٹیننٹ گورنر نے اس اطمینان کا اظہار کیا کہ حکومت ہمدردی سے عملی اقدام کی طرف بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے کہایہ محض امداد نہیں، بلکہ ان کی قربانی کو ہمارا خراجِ عقیدت ہے۔