عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ لیہہ میں کارکن سونم وانگچک کی گرفتاری بدقسمتی ہے۔ وانگچک کو آج اس وقت گرفتار کیا گیا جب لیہہ شہر میں پرتشدد احتجاج کو دو دن گزر چکے تھے، جس میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ذرائع کے مطابق، صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وانگچک کی گرفتاری بدقسمتی ہے، تاہم گزشتہ چند دنوں سے مرکز جس طرح انہیں نشانہ بنا رہا تھا، اس سے یہ گرفتاری ناگزیر لگ رہی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکز نے جموں و کشمیر کے عوام سے وعدے تو کئے لیکن آج تک انہیں پورا نہیں کیا۔ عمر نے کہا،مجھے نہیں معلوم مرکز کو کیا مجبوری ہے کہ بار بار وعدے کرتا ہے مگر پورے نہیں کرتا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لداخ کے عوام نے ابتدا میں انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن مرکزی وزیر کے دورے اور نئی یقین دہانیوں کے بعد نہ صرف انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا بلکہ بی جے پی کو جتانے میں بھی کردار ادا کیا۔
جب ان سے قائد حزبِ اختلاف سنیل شرما کے اس الزام کے بارے میں پوچھا گیا کہ وزیر اعلیٰ تشدد کو جواز فراہم کر رہے ہیں، تو عمر عبداللہ نے کہا کہ تشدد کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے کہاتشدد کو کسی صورت درست نہیں کہا جا سکتا، لیکن یہ اپوزیشن لیڈر کی عادت بن چکی ہے کہ الزام تراشی کریں۔ انہیں یہ جواب دینا چاہیے کہ یہ صورتحال کیوں پیدا ہوئی۔ میں نہ لداخ کا ایل جی ہوں اور نہ ہی سیکورٹی نظام میرے کنٹرول میں ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر نے جموں و کشمیر کی ریاستی درجہ بحالی میں تاخیر پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا،ریاستی درجہ کیوں بحال نہیں کیا گیا؟ کیا صرف اس لیے کہ اپوزیشن لیڈر وزیر اعلیٰ نہیں ہیں؟ اگر یہی شرط ہے تو انہیں عدالت میں صاف کہنا چاہیے کہ ریاستی درجہ اس وقت تک بحال نہیں ہوگا جب تک بی جے پی اقتدار سے باہر نہیں ہوتی۔ لیکن ہم انہیں اقتدار میں آنے نہیں دیں گے۔ چاہے ریاستی درجہ بحالی میں تاخیر کیوں نہ ہو، ہم موجودہ سیٹ اپ میں ہی حکومت چلائیں گے۔