عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر انتظامیہ نے بدھ کے روز عید الاضحٰی کے موقع پر ایک بار پھر سرینگر کے تاریخی عیدگاہ میدان اور جامع مسجد میں اجتماعی نمازِ عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ مسلسل آٹھواں سال ہے کہ ان تاریخی مقامات پر عید کی نماز پر پابندی عائد رہی۔حریت کانفرنس کے سربراہ میرواعظ عمر فاروق، جنہیں مبینہ طور پر گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا، نے اس فیصلے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ایکس‘(ٹویٹر) پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہایہ ہماری مذہبی شناخت، وقار اور بنیادی حقوق پر ایک سوچا سمجھا حملہ ہے۔ عید کے مقدس موقع پر کشمیری مسلمانوں کا استقبال بیریگیڈز، پابندیوں اور بند دروازوں سے کیا جانا انتہائی تکلیف دہ ہے۔
میرواعظ نے نئی نسل پر ان پابندیوں کے اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک پوری نسل اپنی صدیوں پرانی روایات اور عیدگاہ کے اجتماعات کی یادوں سے محروم ہو کر جوان ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ روحانی رشتوں اور عقیدے کو طاقت کے زور پر نہیں دبایا جا سکتا۔انتظامیہ کی جانب سے ان دعوؤں پر اب تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم وادی بھر میں عید الاضحٰی کا تہوار مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ عید کا سب سے بڑا اجتماع مشہور جھیل ڈل کے کنارے واقع درگاہ حضرت بل میں ہوا، جہاں ہزاروں کی تعداد میں فرزندانِ توحید نے نمازِ عید ادا کی۔ وزیراعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ، فاروق عبداللہ اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حضرت بل میں نمازِ عید ادا کی اور عوام کے ساتھ عید کی خوشیاں بانٹیں۔
پوری وادی میں نمازِ عید کے اجتماعات پرامن طریقے سے منعقد ہوئے اور لوگوں نے سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کا فریضہ انجام دیا۔ عیدگاہ اور جامع مسجد سرینگر میں 2019 کے بعد سے اکثر بڑے مذہبی اجتماعات پر پابندی برقرار ہے۔ نماز کے موقع پر حساس علاقوں میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات دیکھے گئے۔جہاں ایک طرف عید کی خوشیاں منائی گئیں، وہیں تاریخی مقامات پر عبادت سے روکے جانے پر عوامی حلقوں میں مایوسی کا اظہار بھی کیا گیا۔
کشمیر: عیدگاہ اور جامع مسجد میں مسلسل آٹھویں سال بھی نمازِ عید کی اجازت نہ مل سکی