سری نگر /پی ڈی پی کے سینئر لیڈر اور رکن اسمبلی وحید پرہ کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی کا ‘ریگولرائزیشن اینڈ رکگنیشن آف پراپرٹی رائٹس بل’ کے عنوان سے اراضی بل جموں و کشمیر کے غریب ترین خاندانوں کے عزت نفس کے تحفظ کے لئے تیار کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد یہ تسلیم کرنا تھا کہ وہ لوگ جو بیس برسوں سے زیادہ عرصے سے سرکاری، کاہچرائی اور شاملات اراضی پر رہ رہے ہیں، تجاوزات کرنے والے نہیں بلکہ آئین ہند کے دفعہ 21 کے تحت رہائش کے بنیادی حق کے حامل شہری ہیں۔
موصوف رکن اسمبلی نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کو ‘ایکس’ پر اپنے ایک طویل پوسٹ میں کیا۔
انہوں نے کہا: ‘یہ بل ایک بار کے لئے ہمدردانہ اقدام تھا جو خاندانوں کو انہدام اور بے دخلی سے تحفظ فراہم کرتا تھا اور انہیں برسوں سے درکار ملکیت کے حقوق دیتا تھا’۔
ان کا کہنا ہے: ‘اس بل کے ذریعےرجسٹریشن، دستاویزات، بینک قرضوں وغیرہ تک رسائی ممکن ہوجاتی اور انسانی بستیاں جو دہائیوں سے آباد تھیں، آخر کار منصفانہ اور با وقار طریقے سے قانونی دائرے میں شامل ہوجاتیں’۔
وحید پرہ نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا: ‘لیکن یہ عوام دوست بل مسترد کر دیا گیا، نیشنل کانفرنس کے لیڈر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی میں لوگوں کو “زمین ہڑپنے والے” قرار دیتے رہے جبکہ بی جے پی نے اس کو “لینڈ جہاد” کا نام دیا’۔
انہوں نے کہا: ‘یہ بل انصاف، وقار اور ہمارے لوگوں کی زندگی کے حقیقی حالات کی نمائندگی کرتا تھا لیکن جس طرح نیشنل کانفرنس اور بی جے پی نے مل کر اس کو ناکام بنا دیا وہ ان ہزاروں خاندانوں کی توہین ہے جن کا واحد جرم یہ تھا کہ انہوں نے ایک ایسی ریاست میں سر چھپانے کی جگہ بنائی جس نے انہیں نظر انداز کر دیا’۔