سری نگر//پی ڈی پی کی سربراہ اور سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو زبردست مقابلہ دینے کے لیے تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہونا پڑے گا۔
خبر رساں ایجنسی کے ساتھ ایک انٹرویو میں، جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی نے کہا کہ حزبِ اختلاف جماعتوں کو کانگریس کی قیادت میں ایک عظیم اپوزیشن اتحاد تشکیل دینا چاہئے لیکن بھاجپا ایسا نہیں ہونے دے گی، بی جے پی اپوزیشن کیمپ کو تقسیم کر رہی ہے تاکہ ایسا نہ ہو۔
انہوں نے سماج وادی پارٹی کے لیڈر اکھلیش یادو اور بہوجن سماج پارٹی لیڈر مایاوتی کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا۔
محبوبہ نے کہا،”جب تک اپوزیشن پارٹیاں اکٹھی نہیں ہوتیں، مجھے نہیں لگتا کہ بی جے پی کے خلاف کوئی زبردست اپوزیشن ہو گی۔ (لیکن)، کیا اپوزیشن لیڈران ایسا کر کے ای ڈی، این آئی اے اور دیگر ایجنسیوں کو اپنے گلے میں ڈالنے کی پوزیشن میں ہیں؟ اکھلیش یادو، مایاوتی کو دیکھیں۔ وہ کچھ نہیں کہہ رہے۔ وہ خاموش کیوں ہیں؟” ۔
محبوبہ نے کہا کہ بی جے پی حکومت، جو اتنے بڑے مینڈیٹ کے ساتھ آئی ہے، بہترین کام کر سکتی تھی، لیکن، “بدقسمتی سے ایسا لگتا ہے، جیسا کہ (دہلی کے وزیر اعلی) (اروند) کیجریوال نے کہا، ان کے پاس ملک کے لیے کوئی وژن نہیں ہے”۔
انہوں نے کہا،”صرف بات یہ ہے کہ… ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک مافیا کی طرح اس ملک پر حکومت کر رہے ہیں۔ اگر آپ اپنے طریقے سے کام نہیں کر سکتے، تو تمام ٹیڑھے طریقے استعمال کریں“۔
پی ڈی پی صدر نے مختلف سیاست دانوں پر ایجنسیوں کے دباﺅ کا عندیہ دیتے ہوئے کہا، ”مجھے شکوک ہیں کہ کیا اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہوسکتی ہیں”۔
انہوں نے کہا،”ممتا بنرجی، کے سی آر اور کیجریوال کو ایک طرف دیکھو۔ وہ (بی جے پی) نہیں چاہتے کہ کانگریس اپوزیشن کی قیادت کرے کیونکہ کانگریس ہی مرکز ہے۔ وہ ٹکڑے چاہتے ہیں “۔
اقلیتوں کی حالت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں محبوبہ نے کہا کہ جب کہ مسلمان مبینہ طور پر بی جے پی کی قیادت والی حکومت کا پہلا نشانہ ہیں، لیکن یہ ان کی مخالفت کرنے والے ہر اس شخص کے پیچھے پڑ جاتی ہے۔
“اب یہ مسلمانوں کے بارے میں نہیں ہے۔ اگر آپ دیکھیں تو جن لوگوں کو اس بار جیل میں ڈالا گیا ہے، وہ مسلمان نہیں ہیں۔ منیش سسودیا مسلمان نہیں ہیں، آپ نے شرد پوار کے لوگوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا، سنجے راوت جیل میں تھے۔ اب وہ راہل گاندھی کے پیچھے پڑے ہیں۔
انہوں نے کہا،”لہذا، یہ صرف مسلمانوں کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ مسلمان یقینا پہلا ہدف ہیں۔ یہ بی جے پی بمقابلہ سب ہونے والا ہے۔ جو کوئی بھی ان کی مخالفت کرتا ہے، اختلافی نوٹ رکھنے کی کوشش کرتا ہے، وہ اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں“۔
“اس میں ہندو، سکھ، دلت – سبھی شامل ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ ہاتھرس میں کیا ہوا، نہ صرف بلقیس بانو کے عصمت دری کرنے والوں کو رہا کیا گیا، رام رحیم نے ہندو خواتین کی عصمت دری اور قتل کیا لیکن وہ اب بھی باہر ہے“۔
ہندو راشٹر کا مطالبہ کرنے والے کچھ دائیں بازو کے رہنماوں کا حوالہ دیتے ہوئے محبوبہ نے کہا کہ وہ اسے “بی جے پی راشٹر” بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
محبوبہ نے مزید کہا،”ہر کوئی ہندو راشٹر کی بات کرتا ہے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ہندو راشٹر بننے جا رہا ہے، یہاں ایک بی جے پی راشٹر بننے جا رہا ہے جہاں ‘یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا آپ ہمارے خلاف ہیں’۔
لوک سبھا انتخابات میں بھاجپا کا مقابلہ کرنے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہونے کی ضرورت: محبوبہ مفتی