عمرعبداللہ ، ڈاکٹر فاروقع عبداللہ، رُکن پارلیمان آغا روح اللہ سمیت دیگر ان نے مزار پر حاضری دی
عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/نیشنل کانفرنس نے جمعہ کو مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی 120ویں سالگرہ پر شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔پارٹی لیڈران اور کارکنان نے مرحوم شیرکشمیر کی جموں و کشمیر کی تعمیر میں خدمات کو یاد کیا۔نسیم باغ میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ آج کا دن صرف شیخ محمد عبداللہ کی پیدائش کی یاد نہیں بلکہ اُن کے اُس مشن کی تجدید ہے جس کا مقصد مظلوم اور بے زبان لوگوں کی آواز بننا تھا۔
انہوں نے کہاآج جو ترقی ہمیں نظر آتی ہے وہ شیخ صاحب کے وژن اور اُن کی جرأت کی مرہونِ منت ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیریوں کو باوقار اور پُرامید زندگی دینے کے لیے وقف کی۔ اُن کی سیاست خدمت، ہمدردی اور انصاف کے اصولوں پر قائم تھی۔ڈاکٹر فاروق نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ شیخ عبداللہ کے اتحاد، سیکولرزم اور مساوات کے اصولوں کو اپنائے رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل قیادت وہ ہے جو دکھ اور مایوسی میں مبتلا لوگوں کا سہارا بنے۔
وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام ہر حال میں شیخ محمد عبداللہ کو یاد رکھتے ہیں۔انہوں نے کہاچھٹی ہو یا نہ ہو، یہ دن عوام کے دلوں میں انتہائی احترام رکھتا ہے۔ اسی دوران راجیہ سبھا ممبر شمی اوبرائے نے بھی خراجِ عقیدت پیش کیا اور شیخ عبداللہ کو ’’سب کا محبوب لیڈر‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ صاحب نے لوگوں کو تاریکی اور محرومی سے نکالا۔مزید برآں، رکن پارلیمان آغا روح اللہ نے ’ایکس ‘پر لکھابابائے قوم شیخ محمد عبداللہ کی 120ویں سالگرہ کے موقع پر ہم اُن کے سیاسی قد اور اصولوں کو یاد کرتے ہیں۔ وہ انصاف، وقار اور عوامی حقوق کے علمبردار تھے۔
انہوں نے کہا کہ شیخ صاحب اور اُن کے ساتھی سیاسی ہمت، مزاحمت اور عوامی خواہشات کی علامت تھے۔
ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان اصولوں کی حفاظت کریں اور ان کے مشن کو آگے بڑھائیں۔تقریب کے دوران پھولوں کی چادر چڑھائی گئی، جذباتی یادیں تازہ کی گئیں اور شیخ عبداللہ کے مشن امن، وقار اور عوامی بہبود—کو آگے بڑھانے کا عزم کیا گیا۔