بلال فرقانی
سرینگر// کشمیر میں گزشتہ 12 روز سے جاری مٹن ڈیلروں اور قصابوں کی ہڑتال ختم ہو گئی ہے، جس کے بعد آئندہ دو روز کے اندر وادی میں گوشت کی سپلائی معمول پر آنے کی توقع ہے۔ہڑتال پنجاب میں کشمیر آنے والی بھیڑ بکریوں سے لدی گاڑیوں پر مبینہ غیر قانونی ٹیکس وصولی کے خلاف شروع کی گئی تھی۔ اس احتجاج کے نتیجے میں مٹن کی سپلائی مکمل طور پر متاثر ہوئی تھی، جس سے شادیوں کے سیزن میں گوشت کی قلت پیدا ہو گئی تھی اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ہول سیل مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری معراج الدین گنائی نے بتایا کہ پنجاب حکومت کے ساتھ گزشتہ ایک ہفتے سے مختلف سطحوں پر جاری مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، جس کے بعد منڈیاں دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج سے منڈیاں کھول دی جائیں گی جبکہ وادیٔ میں دو روز کے اندر گوشت کی سپلائی بحال ہو جائے گی۔ ان کے مطابق فریقین کے درمیان بات چیت کے مثبت نتائج برآمد ہونے کے بعد ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔معراج گنائی نے بتایا کہ 12 روزہ تعطل کے دوران مٹن انڈسٹری کو 100 کروڑ روپے سے زائد کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
قابل ذکر ہے کہ اس معاملے پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو مکتوب ارسال کیا تھا، جبکہ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے رابطہ کرکے مسئلہ اٹھایا تھا۔
مٹن ڈیلرز کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کے بعد اب سپلائی چین کو معمول پر لانے کے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں تاکہ وادی میں شادیوں کے مقسم میں گوشت کی دستیابی جلد از جلد یقینی بنائی جا سکے۔
مٹن ڈیلروں کی ہڑتال ختم، وادی میں 2 روز کے اندر گوشت کی سپلائی بحال ہونے کا امکان