عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/وزارتِ خارجہ نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کو چین کی مبینہ مدد سے متعلق رپورٹس پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی خبریں پہلے سے معلوم حقائق کی توثیق کرتی ہیں۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک سوال کے جواب میں کہا، ’’ہم نے یہ رپورٹس دیکھی ہیں جو پہلے سے معلوم باتوں کی تصدیق کرتی ہیں۔
آپریشن سندور پہلگام حملے کے جواب میں ایک نہایت درست، ہدفی اور متوازن کارروائی تھی، جس کا مقصد پاکستان سے چلنے والے اور اس کی سرپرستی میں قائم ملی ٹینسی کے ڈھانچے کو تباہ کرنا تھا۔انہوں نے مزید کہا، ’’جو ممالک خود کو ذمہ دار سمجھتے ہیں، انہیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ملی ٹینسی کے بنیادی ڈھانچے کو بچانے کی کوششوں کی حمایت کرنا ان کی ساکھ اور عالمی حیثیت پر کیا اثر ڈال سکتا ہے۔‘‘
یہ بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا کہ چین نے پہلی بار یہ تسلیم کیا ہے کہ اس نے اس تنازع کے دوران پاکستان کو تکنیکی مدد فراہم کی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا کے انجینئر ژانگ ہینگ نے اس دوران پاکستان کی معاونت کی، جب پاکستان فضائیہ چینی ساختہ جے-10 سی ای لڑاکا طیارے استعمال کر رہی تھی۔چینی حکام اس سے قبل بیجنگ کے کردار سے متعلق الزامات کو کم اہمیت دیتے رہے تھے۔
آپریشن سندور: پاکستان کو چینی مدد پر بھارت کا سخت ردِعمل