عظمیٰ ویب ڈیسک
اودھم پور//اودھم پور ضلع میں اتوار کی صبح پولیس حراست کے دوران سینے میں درد کی شکایت کے فوراً بعد ایک 35 سالہ شخص بے ہوش ہو گیا، جس کے بعد ہسپتال میں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ اودھم پور کے راتھیان گاو¿ں کے رہنے والے دلیپ سنگھ کے رشتہ داروں نے تین گھنٹے سے زیادہ وقت کے لیے مین دھر روڈ کو بلاک کر کے احتجاج کیا اور موت کے حالات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
اُنہوں نے بتایا کہ دلیپ سنگھ کو پولیس نے ضلع ہسپتال میں ایک مریضہ کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔دلیپ سنگھ کے ساتھ اس وقت مریضہ کے شوہر سمیت دو دیگر افراد بھی موجود تھے۔ مریضہ کا اپنے شوہر کے ساتھ مبینہ طور پر جھگڑا چل رہا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ مریض کا شوہر اور دوسرا شخص ہسپتال سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، سنگھ کو پکڑ کر ہسپتال کے سیکورٹی گارڈوں نے پولیس اہلکاروں کے حوالے کر دیا ، بعد ازاں اسے خواتین پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا۔
سنگھ نے دو گھنٹے بعد لاک اپ کے اندر سینے میں درد کی شکایت کی اور اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ حکام نے بتایا کہ موت کی خبر سے ان کے رشتہ داروں نے احتجاج شروع کر دیا اورہسپتال کے باہر مرکزی سڑک کو بلاک کر دیا۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ حقائق کا پتہ لگانے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ادھم پور جوگندر سنگھ جسروٹیا کی سربراہی میں مجسٹریل انکوائری جاری ہے۔
اُنہوں نے کہا،”دلیپ سنگھ کو احتیاطی تحویل میں لیا گیا تھا ۔ اسے لاک اپ کے اندر تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا”۔
انہوں نے کہا کہ متوفی کا پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا تاکہ اس کی موت کی وجہ معلوم کی جا سکے۔
جسروٹیہ، جنہوں نے مظاہرین سے ملاقات کی اور انہیں منتشر ہونے پر آمادہ کیا، کہا کہ اعلیٰ سطحی مجسٹریل انکوائری کا پہلے ہی حکم دیا گیا ہے اور اگر کوئی غفلت کا مرتکب پایا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے واقعے کے بارے میں جاننے والے لوگوں سے درخواست کی کہ وہ اپنی معلومات یا مادی شواہد ان کے ساتھ شیئر کریں تاکہ انکوائری کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔