عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو جموں میں ملی ٹینسی کے متاثرین کے 41 اہل خانہ کو سرکاری تقرری نامے فراہم کئے۔ اس کے علاوہ عمر میں رعایت کے 22 معاملات اور جموں و کشمیر پولیس کے شہداء کے 19 وارڈز کو بھی ایس آر او 43 اور ’آر اے ایس ‘کے تحت تقرری نامے دیے گئے۔سرکاری بیان میں ترجمان نے بتایا کہ ایل جی نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور ملی ٹینسی سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ درد میں شریک ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ’’ملی ٹینسی کے متاثرہ خاندان دہائیوں تک خاموشی کے ساتھ جدوجہد کرتے رہے اور انہیں انصاف سے محروم رکھا گیا۔ آج ایسے خاندانوں کو تسلیم کیا جا رہا ہے، ان کا احترام کیا جا رہا ہے اور انہیں نئے سرے سے بسایا جا رہا ہے۔ حقیقی متاثرین اور حقیقی شہداء کے اہل خانہ کو ملازمتیں دینا اس عزم کی علامت ہے کہ قوم ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ان خاندانوں کی عزت و وقار اور معاشی سلامتی کی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔ ہمارا مشن ہے کہ ان خاندانوں کی زندگی میں وہ تبدیلی لائی جائے جنہیں برسوں تک انصاف سے محروم رکھا گیا، تاکہ وہ معاشرے کی ترقی اور قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ 41 متاثرہ خاندانوں، عمر رعایت کے 22 کیسز اور پولیس شہداء کے 19 وارڈز کو تقرری نامے دے کر ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔
ایل جی نے 20 سال بعد راحت ملنے والے نصیب سنگھ اور ان کے اہل خانہ کی المناک کہانی بھی بیان کی۔ 28 جون 2005 کو درہم سنگھ اور راجوری کے کوٹرنکہ سے تعلق رکھنے والے چار دیگر افراد کو ملی ٹینٹوں نے بے رحمی سے قتل کیا تھا۔ انھوں نے دو دہائیوں تک نصیب سنگھ کا خاندان خوف اور عدم تحفظ میں زندگی گزارتا رہا، مگر اب ان کی زندگی میں امید کی نئی کرن پھوٹ چکی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ریاسی کے رہائشی اختر حسین کو 13 جولائی 2005 کو ملی ٹینٹوںنے گولی مار کر قتل کر دیا۔ اس کی بیوہ اور بچے بھی دو دہائیوں تک شدید مشکلات کا شکار رہے۔ اسی طرح 15 نومبر 2004 کو کشتواڑ میں ایس پی او سنجیت کمار کو ایک شادی کی تیاریوں کے دوران ان کے دوست سمیت ملی ٹینٹوںنے قتل کر دیا تھا۔ایل جی سنہا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی قیادت میں ملی ٹینسی کے پورے نظام کو جڑ سے اکھاڑا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے امن خریدا نہیں بلکہ قائم کیا ہے۔ بدانتظامی کے دن ختم ہو چکے ہیں، اب ملی ٹینٹوں، علیحدگی پسندوں اور ان کے سرپرستوں کو سرکاری نوکریاں نہیں بلکہ سخت ترین سزائیں دی جا رہی ہیں۔‘‘
انہوں نے خبردار کیا کہ گمراہ کن افواہیں اور منفی بیانیے پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ’’جو لوگ علیحدگی پسندی کو ہوا دیں گے اور قومی یکجہتی کے لیے خطرہ بنیں گے، قانون کے مطابق سخت کارروائی کا سامنا کریں گے۔‘ایل جی نے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ بلا مفاد جموں و کشمیر کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔تقریب میں پولیس سربراہ نالین پربھات، پرنسپل سیکرٹری ہوم چندرکر بھارتی، کمشنر سیکرٹری جی اے ڈی ایم راجو، ڈویژنل کمشنر جموں رمیش کمار، آئی جی پی جموں بھیم سین توتی، مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، سینئر افسران اور ملی ٹینسی سے متاثرہ خاندانوں کے افراد شریک تھے۔ اراکین قانون سازیہ اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔