عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر//مرکزی قائمہ کمیٹی برائے سماجی انصاف کی طرف سے جموں و کشمیر کی سال 2018 کی آبادی پر مبنی تیار کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر میں کل 13لاکھ 48 ہزار 700 افراد منشیات کے عادی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، سماجی انصاف اور امپاورمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ جموں و کشمیر میں ایک اندازے کے مطابق 13.50 لاکھ منشیات کے عادی افراد ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کی عمر 18 سے 75 سال کے درمیان ہے۔
کمیٹی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 17اور 18 سال کی عمر کے 1لاکھ 68 ہزار 700 بچے منشیات استعمال کرتے ہیں اور وہ بھنگ، اوپیئڈز، سیڈیٹیو، کوکین، ایمفیٹامین قسم کے محرکات (اے ٹی ایس)، سانس کے زریعے لی جانے والی منشیات اور ہیلوسینوجنز لے رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ، جموں و کشمیر میں 18 سے 75 سال کی عمر کے تقریباً 11 لاکھ 80ہزار بالغ افراد منشیات استعمال کرتے ہیں اور ان میں سے اکثریت اوپیوڈز کے عادی ہیں، اس کے بعد کینابیس، سیڈیٹیو اور سانس لینے والے ادویات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ،خطے میں کل 13 لاکھ 48 ہزار 700 افراد منشیات استعمال کرنے والے ہیں اور یہ تعداد زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ یہ تخمینے 2018 میں متوقع آبادی پر مبنی ہیں۔
کمیٹی نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے، “عادی افراد سات قسم کے سائیکو ایکٹیو مادے جیسے کینابس، اوپیئڈز، کوکین، ایمفیٹامائن اسٹیمولنٹس، سیڈیٹیو، سانس لینے والے اور ہیلوسینوجنز کو متاثرین استعمال کرتے پائے گئے، اس کے علاوہ الکحل بالغوں کی طرف سے استعمال ہونے والا سب سے عام سائیکو ایکٹیو مادہ ہے”۔