عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی کا ایک اعلیٰ سطحی وفد نئی دہلی میں مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جے پی نڈا سے ملاقی ہوااور کٹرہ میں شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ (ایس ایم وی ڈی ایس بی) کے زیر انتظام چلنے والے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس (ایس ایم وی ڈی آئی ایم ای) میں ایم بی بی ایس نشستوں کی الاٹمنٹ سے متعلق بڑھتے تنازع پر تفصیلی گفتگو کی۔وفد میں جموں کشمیر بی جے پی کے صدر و راجیہ سبھا رکن ست شرما، وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ، لیڈر آف اپوزیشن سنیل شرما، لوک سبھا رکن جگُل کشور شرما، راجیہ سبھا رکن غلام علی کھٹانہ، ممبران اسمبلی ڈاکٹر دیویندر منیال، شام لال شرما اور ایڈووکیٹ آر ایس پٹھانیہ شامل تھے۔
وفد نے وزیر صحت کو بتایا کہ 50 ایم بی بی ایس نشستوں کے پہلے بیچ میں سے 42 نشستیں غیر ہندو امیدواروں کو دی گئی ہیں، جس کے باعث ماتا ویشنو دیوی کے عقیدت مندوں اور شرائن بورڈ کو مالی مدد فراہم کرنے والے افراد میں شدید ناراضگی پیدا ہو گئی ہے۔انہوں نے آگاہ کیا کہ مختلف سماجی اور مذہبی تنظیمیں داخلہ عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج شروع کر چکی ہیں اور شفافیت کے ساتھ اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ وفد نے خبردار کیا کہ اگر معاملہ فوری طور پر حل نہ ہوا تو آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج بھڑک سکتا ہے جس سے خطے کے پرامن ماحول پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی میرٹ اور آئینی دائرہ کار پر مبنی طبی داخلوں کا احترام کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ کروڑوں عقیدت مندوں کے جذبات کا لحاظ رکھا جائے جو اس مقدس مقام سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے وزیر صحت سے اپیل کی کہ وہ معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے مناسب مداخلت کریں تاکہ ایسا حل نکل سکے جو عقیدت مندوں کے جذبات کی ترجمانی بھی کرے۔وفد نے داخلہ عمل کے جامع جائزے، مکمل شفافیت اور ایسے طریقہ کار پر غور کی درخواست کی جس سے عقیدت مندوں کو نمائندگی اور اطمینان کا احساس ہو۔
مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے وفد کی بات پوری توجہ سے سنی اور یقین دلایا کہ معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر مناسب اقدامات کرے گی، جبکہ قومی میڈیکل ایجوکیشن کے اصولوں کی مکمل پاسداری بھی یقینی بنائی جائے گی۔جموں و کشمیر بی جے پی رہنماؤں نے یقین ظاہر کیا کہ مرکزی حکومت بروقت اور منصفانہ حل کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔