عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر چوہدری محمد رمضان کی راجیہ سبھا میں کئے گئے خطاب کا خیرمقدم کیا، جہاں پارلیمنٹ کے سیشن کے افتتاحی دن ہی جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مسئلہ اٹھایا گیا۔عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ رمضان نے ایوانِ بالا میں پہلے ہی موقع پر مرکزی حکومت کو جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کے اپنے وعدے کی یاد دلائی۔ انہوں نے اس اقدام کو بروقت اور اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پارٹی کے ارادے واضح ہوتے ہیں کہ وہ اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں زندہ رکھے گی۔
پوسٹ میں رمضان کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا گیا کہ جموں و کشمیر کی منتخب حکومت کے پاس ’’کوئی اختیارات‘‘ نہیں بچے ہیں اور اصل اختیار اب بھی لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے۔نیشنل کانفرنس نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کی حکومت غیر مؤثر ہو چکی ہے اور تمام بڑے انتظامی اختیارات بدستور لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہیں۔
’فرسٹ ڈے، فرسٹ شو‘: عمر عبداللہ نے چودھری رمضان کے پارلیمانی خطاب کی تعریف کی