جموں//جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کو کہا کہ حکومت عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں امن قائم کرنے کے پختہ ارادے کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
شاعر اور آزادی پسند سروانند کول پریمی کو ان کی برسی پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، ایل جی نے کہا کہ “ہمیں دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو تباہ کرنے میں کافی حد تک کامیابی ملی ہے، جس نے نہ صرف جموں و کشمیر کو گہرا زخم دیا ہے جبکہ پورا ملک اس سے متاثر ہوا ہے”۔
سنہا نے کہا،”میں اعتماد کے ساتھ ایک بات کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا امن خریدنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لیکن ہم (جموں و کشمیر میں) امن قائم کرنے کی نیت سے کام کر رہے ہیں۔ ہمیں عسکری ماحولیاتی نظام کو تباہ کرنے میں کافی حد تک کامیابی ملی ہے“۔”یہ جموں و کشمیر کا نہیں بلکہ پورے بھارت کا زخم ہے۔ عسکری نظام کو(جموں و کشمیر سے) ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ہم کس حد تک کامیاب رہے ہیں، میں یہ نہیں کہہ سکتا“۔
انہوں نے کہا کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے “گزشتہ 75 سالوں کے دوران یہاں سے دہلی تک ماحولیاتی نظام (گورننس) میں دراندازی کی ہے”۔
سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر اپنی شان و شوکت واپس حاصل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ پورے بھارت کے لیے اہم ہے۔
سروانند کول پریمی کو یاد کرتے ہوئے، ایل جی نے کہا کہ وہ خیالات اور نظریات کے ایک بلند پایہ آدمی تھے۔
سنہا نے کہا کہ بلاشبہ وہ اپنے وقت کے سب سے بڑے ادیبوں میں سے ایک تھے جنہوں نے معاشرے کے پسے ہوئے اور کمزور طبقات کی بہتری کے لیے گہری وابستگی رکھی۔
ایل جی نے کہا،”سروانند جی نے جدوجہد آزادی میں عظیم شراکت کی اور ہمارے قومی اتحاد کے بندھنوں میں نئی زندگی ڈالی۔ اپنی پوری زندگی میں، اس نے امن، بقائے باہمی اور تعاون کی آفاقی اور ابدی اقدار کی پیروی کی”۔
انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کو زمین پر جنت کہا جاتا ہے، نہ صرف اس کی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے، بلکہ سروانند کول جیسی عظیم شخصیات کے لیے بھی، جنہوں نے اپنی زندگی دوسروں کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔
جموں و کشمیر میں عسکری نظام کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں: ایل جی سنہا