عظمیٰ ویب ڈیسک
بڈگام/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کو کہا کہ جموں و کشمیر میں منشیات کی اسمگلنگ دہشت گردی کی فنڈنگ سے قریبی طور پر جڑی ہوئی ہے اور پڑوسی ملک پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے یہاں منشیات پہنچا رہا ہے۔
ضلع بڈگام میں انسدادِ منشیات پدیاترا سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ منشیات کے خلاف جنگ محض ایک سماجی مہم نہیں بلکہ اس کے بڑے اثرات ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’منشیات ہماری نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہے اور ان کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ دہشت گردی کو اکثر منشیات کے ذریعے مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان ہمارے خطے میں یہ منشیات لا کر دہشت گردی کو ہوا دینے اور اس کی مالی معاونت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گزشتہ 24 دنوں کے دوران جموں و کشمیر بھر میں سیکورٹی ایجنسیوں نے 481 ایف آئی آر درج کیں جبکہ منشیات کے کاروبار میں ملوث 500 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے کہا، ’’ان افراد کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں اور منشیات کی اسمگلنگ سے جڑے پورے مالیاتی نیٹ ورک پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ صرف چھوٹے پیمانے پر منشیات فروخت کرنے والوں ہی نہیں بلکہ بڑے اسمگلروں اور سرغنوں کے خلاف بھی کارروائی کر رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا، ’’کوئی بھی اسمگلر بچ نہیں سکے گا۔ ہماری ایجنسیوں کو معلوم ہے کہ آپ کون ہیں، اور سخت کارروائی ہوگی۔‘‘
منوج سنہا نے کہا کہ اس ناسور پر قابو پانے کے لیے سخت انتظامی اقدامات بھی نافذ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کے دھندے میں ملوث افراد کے ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ، آدھار کارڈ اور دیگر سرکاری دستاویزات جاری معیاری عملی طریقہ کار (SOPs) کے تحت منسوخ کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً 290 ڈرائیونگ لائسنس معطل کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ میڈیکل شاپس اور دوا ساز سپلائی چین پر بھی سخت نگرانی رکھی جا رہی ہے تاکہ ادویات کے غلط استعمال اور غیر قانونی منتقلی کو روکا جا سکے۔
انہوں نے ساتھ ہی نشے کے عادی افراد کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’یہ ہمارے اپنے بچے ہیں، ہمارے بیٹے اور بیٹیاں۔ انہیں ہمدردی اور مناسب بازآبادکاری کی ضرورت ہے۔‘‘
پڑوسی ملک جموں کشمیر میں منشیات پہنچا رہاہے: منوج سنہا