عظمیٰ ویب ڈیسک
ادھم پور/جموں و کشمیر کے ادھم پور ضلع کے مجالتا علاقے کے سون گاؤں میں ملی ٹینٹوںکے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی دوسرے روز بھی جاری ہے۔ پیر کی شام شروع ہوئے تصادم میں ایک پولیس جوان کی ہلاکت کے بعد فورسز نے علاقے میں محاصرہ مزید سخت کر دیا ہے اور جنگلات میں چھپے ملی ٹینٹوں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن چلایا جا رہا ہے۔پولیس حکام کے مطابق پیر کے روز ہونے والی جھڑپ میں ایک ملی ٹینٹ کے زخمی ہونے کا شبہ ہے، جبکہ دو پولیس اہلکاروں کو گولیوں کے معمولی زخم آئے تھے۔ بعد ازاں اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) وابستہ جوان امجد پٹھان، ولد بشارت خان، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔ مہلوک جوان کا تعلق پونچھ ضلع کے مینڈھر علاقے کے سلوا گاؤں سے بتایا جا رہا ہے۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ منگل کی صبح دوبارہ آپریشن شروع کیا گیا اور ملی ٹینٹوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے علاقے میں ناکہ بندی مزید مضبوط کر دی گئی ہے۔ اس مشترکہ کارروائی میں جموں و کشمیر پولیس کی ایس او جی، فوج اور سی آر پی ایف کے جوان شامل ہیں، جبکہ کھوجی کتوں کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاع ملنے پر عمل میں لائی گئی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ کم از کم تین ملی ٹینٹ سون گاؤں کے قریب موجود ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ان کا تعلق پاکستان میں قائم ملی ٹینٹ تنظیم جیشِ محمد سے ہو سکتا ہے۔
آئی جی جموں بھیم سین توتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ ایس او جی کی ایک محدود ٹیم نے سب سے پہلے ملی ٹینٹوں کا سامنا کیا، تاہم اندھیرا اور گھنے جنگلات کے ساتھ دشوار گزار پہاڑی علاقے کے باعث سرچ آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں تاہم سکیورٹی فورسز نے ممکنہ فرار ہونے کے تمام راستوں کو سیل کیا ہے۔آخری اطلاعات موصول ہونے تک علاقے میں آپریشن جاری تھا۔ اس سلسلے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
ادھم پور تصادم: ایس او جی جوان کی موت، مزید دو اہلکار زخمی، آپریشن ہنوز جاری