عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/شمالی کشمیر کے سرحدی علاقوں میں مواصلاتی نظام کی شدید خستہ حالی نے لوگوں کی روزمرہ زندگی کو سخت متاثر کیا ہے۔ اسی سنگین مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے آج محبوس رکنِ پارلیمنٹ انجینئر رشید نے لوک سبھا میں مؤثر انداز میں آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جہاں ملک بھر میں ڈیجیٹل انقلاب اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے بڑے بڑے دعوے کر رہی ہے، وہیں شمالی کشمیر کے دور دراز اور سرحدی علاقوں میں فون کال کی سہولت بھی میسر نہیں۔
انجینئر رشید نے پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران کہا کہ 4G اور 5G تو دور کی بات ہے، سرحدی دیہات میں لوگ ایک فون کال کے لیے بھی ترس رہے ہیں۔انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ان علاقوں میں کئی بستیاں ایسی بھی ہیں جہاں آج تک موبائل ٹاور نصب نہیں کیے گئے، جس کے باعث لوگ ایمرجنسی کی صورت میں بھی بیرونی دنیا سے رابطہ نہیں کر پاتے۔انہوں نے مرکزی سرکار اور متعلقہ وزارت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر شمالی کشمیر کے ان علاقوں میں معیاری مواصلاتی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے، تاکہ اس ڈیجیٹل دور میں بھی وہاں کے شہری مشکلات اور محرومیوں کا شکار نہ رہیں۔
مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ رابطے کی عدم دستیابی سے نہ صرف تعلیمی و کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ حادثات یا ایمرجنسی کے وقت بھی بروقت مدد نہیں مل پاتی۔ شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ پارلیمنٹ میں مسئلہ اٹھائے جانے کے بعد حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دے گی۔
شمالی کشمیر کے سرحدی علاقوں میں مواصلاتی نظام مفلوج، فون کال تک ناممکن :محبوس رکن پارلیمان انجینئر رشید کا پارلیمنٹ میں سخت مؤقف