نئی دہلی// مرکزی حکومت نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق رہنما اور جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری کو ‘زیڈ+’ زمرہ کا سیکورٹی کور فراہم کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، انٹیلی جنس بیورو کے تجزیے کی بنیاد پر حال ہی میں ہونے والی سیکیورٹی جائزہ میٹنگ کے بعد وزارت داخلہ کی جانب سے سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ بزنس مین سے سیاست دان بنے اور سابق وزیر الطاف بخاری کو جموں و کشمیر میں چوبیس گھنٹے ’Z+‘ زمرہ کی سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔
بخاری نے نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) جیسی علاقائی سیاسی جماعتوں کے متبادل کے طور پر جموں و کشمیر اپنی پارٹی (جے کے اے پی) بنائی۔
اپنی پارٹی، بنیادی طور پر قانون سازوں اور سابق وزراءپر مشتمل ہے، پارٹی دفعہ 370 اور 35A کی منسوخی کے آٹھ ماہ بعد مارچ 2020 میں قائم کی گئی تھی۔ اس کے بعد سے، مختلف تنظیموں کے تقریباً دو درجن قانون ساز اس میں شامل ہو چکے ہیں۔
مارچ 2020 میں، پارٹی کے تمام سرکردہ لیڈروں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے زمینی حقوق اور ملازمتوں کے تحفظ کے مطالبہ کیا تھا۔
بخاری نے تب کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور شاہ نے پارٹی کی کوششوں کی تعریف کی۔ اپنی پارٹی رائے دہندوں پر خاص طور پر کشمیر میں اثر پیدا کرنے کے لیے ریلیوں کا ایک سلسلہ منعقد کر رہی ہے۔
پارٹی نے گزشتہ سال سری نگر میں ایک میگا ریلی بھی نکالی، جسے 5 اگست 2019 کے بعد وادی میں سب سے بڑی ریلی سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ اپنی پارٹی نے تجاوزات کے خلاف مہم کے لیے حکومت پر کھل کر تنقید کی ہے، اس کے با وجود بخاری نے کہا تھا کہ وہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کے لیے تیار ہیں۔
مرکز نے الطاف بخاری کو ’زیڈ پلس‘ سیکورٹی کور فراہم کیا