عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کرکٹ ٹیم کی تاریخی فتح کے بعد پوری وادی، جموں خطے اور مختلف اضلاع میں جشن کا سماں رہا۔ پہلی بار رنجی ٹرافی جیتنے پر نوجوانوں نے پٹاخے چھوڑے، گاڑیوں کے ہارن بجائے اور سڑکوں پر جھنڈے لہراتے ہوئے جے کے کرکٹ ٹیم کے حق میں نعرے بلند کیے۔ کئی جگہوں پر لوگوں نے میٹھائیاں تقسیم کیں اور ڈھول کی تھاپ پر رقص بھی کیا۔سرینگر، بڈگام، بارہمولہ، کپوارہ، شوپیاں اور پلوامہ میں کرکٹ شائقین بڑی اسکرینوں پر میچ کے آخری لمحے دیکھتے رہے اور جیت کی خبر آتے ہی شورِ مسرت بلند ہو گیا۔ جموں کے گاندھی نگر، جانی پور اور سانبہ میں نوجوانوں نے ریلی نکال کر کھلاڑیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی مبارکبادوں کا تانتا بندھا رہا۔ ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر ہزاروں پوسٹس گردش کرتی رہیں جن میں ٹیم کی محنت، ہمت اور مستقل مزاجی کو سراہا گیا۔سرینگر کے رہائشی 21 سالہ ارسلان احمد نے کہا، ’ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ جے کے ٹیم رنجی جیتے گی۔ یہ صرف کھیل کی نہیں بلکہ ہماری نئی شناخت کی فتح ہے۔‘بارہمولہ کے بزرگ کرکٹ شائق محمد یونس نے جذباتی انداز میں کہا، ’یہ دن میری زندگی کا سب سے خوشگوار لمحہ ہے، میں نے 40 سال بعد ایسا جشن دیکھا ہے۔‘فائنل کے ہیرو عاقب نبی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا، ’یہ جیت صرف ہماری نہیں، پوری جموں و کشمیر کی ہے۔ ہر چھوٹے بڑے کی دعاؤں نے ہمیں اپنی منزل تک پہنچایا۔‘جموں و کشمیر کی یہ تاریخی کامیابی نہ صرف کھیل کے میدان میں ایک سنگِ میل ہے بلکہ نوجوانوں کے لیے ایک بڑی امید بھی بن چکی ہے۔