حسن کو بے نقاب دیکھ لیا خوبصورت عذاب دیکھ لیا روشنی بھر…
برسوں سے رہ رہا ہوں میں وہم و گماں کے بیچ یعنی…
صبر و فرصت کی بات کرنی ہے کچھ تو فرقت کی بات…
بامِ اُلفت پر فلک سے آج پھر اُترا ہے چاند شاد آنکھیں…
دل کی گہرائی میں درد چھپانا ہے ہم کو گُھٹ گُھٹ کر…
ایسے لگتا ہے وہ ہزاروں میں چاند ہوتا ہے جیسے تاروں میں…
غمِ عشق کی اب دوائی نہ کرنا مجھے پھر عطا تم رہائی…
زندہ دل لوگ عجب سیلِ رواں ہوتے ہیں آخری سانس تلک فیض…
ستم نہ کر، نہ ستائو، طلب تمہاری ہے قریب آ کے نہ…
مَرجعِ خاص و عام ہونا تھا باعثِ احترام ہونا تھا پردہ داری…
Copy Not Allowed
Sign in to your account
Remember me