سرگرداں میں ہوا جو تلاشِ کتاب میں ابواب علم وا ہوئے آ…
کچھ لمحے ایسے آتے ہیں خود سے بھی ہم ڈر جاتے ہیں…
شعور مر گیا جذبوں میں تازگی نہ رہی حیات لٹ گئی جب…
بیوی میکے جا رہی ہے آج شب کھانے کے بعد بی پڑوسن…
اس لئے ہے زباں پر نام اُس کا ذکر ہوتا ہے صبح…
اپنی نظروں میں بے نقاب ہوئے ہم اسی واسطے خراب ہوئے کیا…
محسوس یہ ہوا کہ اُجالوں میں کھو گئے ہم جب سے ہیں…
میں اُس سے کہہ نہ سکا آپ ہیں غزل کی طرح غزل…
روح کی خلش یہ ناصبور کا عالم جیتا نہیں مرتا، دلِ مجبور…
Copy Not Allowed
Sign in to your account
Remember me