ہزاروں آئینے ہیں اور زمانے کی نظر تنہا تم اکثر ساتھ رہتے…
ایک تتلی نے گلابوں سے شرارت کی ہے اس پہ خوشبو نے…
معزز کس قدر تھا گردشِ ایام سے پہلے مرے سر پر یہی…
اب تو حصار ذات سے یہ آگہی نکال مستی بھری حیات…
ابھی کچھ اور دن اسلاف کی چادر میں رہنے دے مکاں کچّا…
اسے بھی آزمانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے مجھے بھی دھوکہ…
دل سے دل کا ہے تعلق منقطع دکھ کہ دکھڑا ہے تعلق…
دنیا میں جس نے لایا ہے بے مثل انقلاب ہم بد نصیب…
Copy Not Allowed
Sign in to your account
Remember me