کہہ رہے ہیں آج سب اہلِ نظر اچھا لگا پر زمانے کو…
شام کا سورج بھی معمارِ مقدر ہوگیا میرا سایہ اُن کے گیسو…
مقدر تھا ستاروں کے حوالے ہوئے ہم بھی سہاروں کے حوالے ہمارا…
دل کے ڈھول کی تھاپ سے اٹھتی ہر…
اُس کے دِل میں نہ جانے کیاغم تھا جب بھی دیکھااُسے…
سودا مری نگاہ کا ہر چند ہوگیا پھر بھی نہ خواب میرا…
پھر کون چلا آیا مرے حرفِ یقیں تک مضمون جو پہنچا تھا…
ثابت ہے مرا حوصلہ مغلوب نہیں ہوں ہے جُرم صعیفی، تو میں…
ہر سفر میں سفر تلاش کیا ہم نے کب اپنا گھر…
Copy Not Allowed
Sign in to your account
Remember me