ہمیں نہیں جو زمانے میں نذرِ دارد ہوئے تیری گلی میں مسیحا بھی سنگسار…
جب بھی اپنی ہستی کو خوب تو سنوارے گا منزلیں بلائیں گی،…
جو حسُن مجسم ہو ستم گر نہیں ہوتا شیشے کے مکاں میں کوئی پتھر نہیں ہوتا…
جو اندھیرے میں تیرے پائوں سے لپٹا ہوگا وہ پرندہ بھی کسی غول سے…
ایک اُٹھتی ہوئی دیوار پہ رونا آیا بٹ گئے لوگ تو گھر…
غمِ دنیا بھلا دیتے، اگر وہ ملنے آ جاتے من و…
ہر وقت ٹوٹنے کا ہے خوف میرے اندر یہ زندگی بھی جیسے…
موسم ہجر کی پہنائی نے کمال کیا دشتِ دل کی شکیبائی نے…
مسلسل غم کی ہے برسات مجھ پر گراں ہیں آج کل…
بر مصرع بشیر بدر وہ کنجی خوشی کی مِرے ہاتھ ہو گی…
Copy Not Allowed
Sign in to your account
Remember me