نہ نام، عہدہ نہ شہرت پہ انحصار رکھو تم اپنے خُلق کو…
موت منظور ہے نہ مات ہمیں چاہئے پھر بھی کائنات ہمیں ایک…
پیار کرنے کو ہے بیتاب بہت من اپنا خوف بھی ہے کوئی…
اک مدت آنا جانا چھوڑ دیا اُس نے رشتوں کو اپنانا چھوڑ…
زبان بند آنکھوں میں دریا رواں سا بہت اَن کہا بھی ہوا…
بات مت چھیڑیئے فسانوں کی نیند کھل جائے گی زمانوں کی کس…
تیری آنکھوں کی ٹھنڈی چھاؤں پر ہم ہیں قرباں تیری اداؤں پر…
شبیر حسین شبیر زمانۂ جدید کی سب سے بڑی ستم ظریفی شاید…
شمعِ خاموش پہ بیدار نظر ٹھہری ہے جانے کس چاند کے گاؤں…
یہ کیا سوال ہے وہ کیوں سفر میں رہتا ہے کسی کے…
Copy Not Allowed
Sign in to your account
Remember me