کہا، دلی کار بم دھماکہ انتہائی قابل مذمت، ملوثین کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے، لیکن جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ بات چیت کرنا اور لوگوں کے دل جیتنے کےلئے اقدامات کرنا لازمی ہے
عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/اپنی پارٹی نے نئی دہلی میں حالیہ کار دھماکے اور اس میں بعض تعلیم یافتہ لوگوں کے ملوث ہونے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی نے کار دھماکے کو دہشت گردی کی ایک بدترین کارروائی قرار دیتے ہوئے اسکی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ساتھ نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ ان بنیادی وجوہات کا جائزہ لے جو وائٹ کالر افراد کو اس طرح کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل ہونے پر مائل کرتے ہیں۔ پارٹی نے کہا ہے کہ ان وجوہات کا پتہ لگا کر ان کا تدارک کیا جانا چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ انتہا پسندی ختم ہو اور مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔موصولہ بیان کے مطابق اپنی پارٹی نے ان خیالات کا اظہار آج پارٹی آفس شیخ باغ میں منعقدہ ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس کی صدارت پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے کی۔ یہ میٹنگ جموں و کشمیر میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل اور عوامی شکایات کا جائزہ لینے کے لیے بلائی گئی تھی۔
میٹنگ کے آغاز میں شرکاء نے دہلی کار بم دھماکے اور گزشتہ ہفتے نوگام پولیس اسٹیشن میں ہونے والے حادثاتی دھماکے میں اپنی جانیں گنوانے والے معصوم لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔میٹنگ کے دوران، پارٹی رہنماؤں نے متفقہ طور پر دہلی کار دھماکے کی مذمت میں ایک قرارداد منظور کی اور مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بامعنی بات چیت اور رابطہ مہم شروع کرے۔
اجلاس میں پارٹی قیادت کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد میں درج ذیل ہے: اپنی پارٹی نئی دہلی میں لال قلعہ کے قریب حالیہ کار دھماکے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ہم ان خاندانوں سے اپنی گہری ہمدردی رکھتے ہیں جنہوں نے اس ہولناک حملے میں اپنے عزیزوں کو کھو دیا۔ دہشت گردی کے اس وحشیانہ فعل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے اور ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔
اپنی پارٹی نوگام پولیس اسٹیشن میں ہونے والے حادثاتی دھماک میں ہونے والے انسانی زندگیوں کے اتلاف پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتی ہے۔ ہم متاثرہ خاندانوں کے دُکھ میں برابر کے شریک ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے ساتھ یکجہتی میں کھڑے ہیں۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ناخوشگوار واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور تمام زخمیوں کو مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔ دھماکے کے نتیجے میں تباہ ہونے والے گرد نواح کے مکانات کے مالکان کو بھی مناسب معاوضہ ملنا چاہیے۔ نیز اس حادثاتی دھماکے کے وجوہات کا پتہ لگانے کےلئے تحقیقات ہونی چاہیے۔
اپنی پارٹی دہلی دھماکے میں کچھ تعلیم یافتہ افراد کے ملوث ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں وائٹ کالر افراد کا ملوث ہونے کا رجحان انتہائی تشویشناک ہے اور اسے ہر قیمت پر روکا جانا چاہیے۔ جہاں دہشت گردی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ضروری ہے، وہیں لوگوں کے دل و دماغ جیتنے کے لئے اقدامات کرنا بھی ضروری ہے۔ اپنی پارٹی کا اصرار ہے کہ حکومت کو ان بنیادی وجوہات کی مکمل چھان بین اور شناخت کرنی چاہیے جو تعلیم یافتہ افراد کو بنیاد پرستی اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کی طرف مائل کرتے ہیں۔ ان وجوہات کو دور کرنے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ٹھوس کارروائی ضروری ہے، لیکن معاشرے میں بنیاد پرستی کو روکنے کے لیے عوامی رابطہ مہم اور ڈائیلاگ بھی انتہائی ضروری ہے۔
اپنی پارٹی سمجھتی ہے کہ نئی دہلی اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے اور ایک گہری خلیج ہے۔ اعتماد کی اس خلیج کو پاٹنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی بداعتمادی صرف پرتشدد سرگرمیوں کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔ اپنی پارٹی اس بات پر زور دیتی ہے کہ عزت مآب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کا جو عہد کیا ہے، اسے بغیر کسی تاخیر کے پورا کیا جانا چاہیے۔
بیان کے مطابق، دن بھر جاری رہنے والی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران، اپنی پارٹی کی قیادت نے کئی اہم عوامی مسائل، خاص طور پر جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری پر بھی غور و خوض کیا۔ قیادت نے حکومت کی جانب سے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔بیان کے مطابق بڈگام میں حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنی پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر میں 2024 کا انتخاب ایک احتجاجی ووٹ تھا، تو بڈگام ضمنی انتخاب ایک واضح طور پر حکمران جماعت کےلئے سزا کا ووٹ ہے۔ تمام مقامی عوامل کے باوجود، بڈگام کے لوگوں نے ایک غیر متزلزل پیغام بھیجا ہے۔ یہ پیغام سیدھا ہے۔ بڈگام کے ضمنی انتخابات میں عوام نے کسی خاص پارٹی یا انفرادی امیدوار کے خلاف نہیں۔ یہ حکمران جماعت کے خلاف سزا کا ووٹ ہے۔ جس سے کسی اور پارٹی کو استفادہ حاصل ہوا۔
بیان کے مطابق میٹنگ کے دوران پارٹی لیڈران نے کہا کہ جموں کشمیر اس وقت یک نازک موڈ پر ہے اور یہاں کے لوگوں کو کئی طرح کے سیاسی، معاشی اور سلامتی کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ بدقسمتی سے بہتر حکمرانی فراہم کرنے کے وعدوں کے باوجود این سی کی سرکار ہر سطح پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ جموں و کشمیر میں ہائبرڈ گورننس کے نمونے کو مورد الزام ٹھہرا کر این سی حکومت اپنی ذمہ داریوں سے کنارہ کشی کر رہی ہے۔ ناقص گورننس کے سنگین معاشی نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ دستکاری اور باغبانی جیسے شعبے کو پہلے مضبوط تھے بھی اب کمزور ہونے لگے ہیں اور اس کے منفی معاشی اثرات صاف دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ یہ معاشی پریشانی ایک نازک سیکورٹی کی صورت حال کو جنم دیتی ہے، خاص طور پر پہلگام حملوں اور دہلی بم دھماکوں کے بعد یہ صورتحال ایک تاریک منظر نامے کی تشکیل کرتا ہے، جسے اگر برقرار رہنے دیا گیا تو صرف جموں و کشمیر کے لوگوں کو ہی نقصان پہنچے گا۔ اپنی پارٹی نتائج کو متعارف کرانے کے لیے درکار ضروری تبدیلیوں کے آگے آگے رہنے کی کوشش کرے گی- اور نتائج پر مبنی پروگرام دے گی۔ اس پروگرام کے عناصر یہ ہیں:
ہم عوامی پالیسی اور گورننس کو اس سطح پر لانے کی کوشش کریں گے جس سے مصیبت زدہ عوام کو بہت ضروری ریلیف اور راحت ملے گی۔ ہماری حکمرانی کا نمونہ انتظامی/بیوروکریٹک سطح پر سیاسی حکومت کی بالادستی ہوگی۔ ہماری توجہ اور زور شراکتی طرز حکمرانی پر ہوگا۔ ہم اپنی عوامی پالیسی اور حکمرانی کی بنیاد جموں کشمیر کے لوگوں کے لیے مضبوط نتائج پر رکھیں گے۔
ہم جموں کشمیر کے قدرتی اقتصادی شعبوں یعنی باغبانی، زراعت، سیاحت اور دستکاری کو بحال کریں گے ۔ سٹیٹ ہُڈ اور دیگر متعلقہ مسائل کے بارے میں بات کرنا اس وقت تک کھوکھلا ہے جب تک لوگوں کو معاشی طور پر بااختیار نہیں بنایا جاتا۔ یہ جموں کشمیر کے لیے ریاست کے درجے کی ضرورت سے انکار نہیں ہے۔ ہم اس کے لیے مل کر لڑیں گے۔ لیکن ہم ان شعبوں میں بہتری کو ترجیح دیں گے جو ہماری معیشت کو سدھاریں گے۔
حکومتی صلاحیت اور قابلیت کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنے اور مارکیٹ پر مبنی اصلاحات کا مشترکہ اثر اقتصادی ترقی کا ایک نیا نمونہ تشکیل دینا ہوگا، جو وسیع البنیاد ہو اور جس سے جموں و کشمیر کا ہر فرد مستفید ہو۔
اپنی پارٹی جموں کشمیر میں پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے فوری انعقاد پر زور دیتی ہے۔ ساتھ ہی ہم جموں کشمیر میں ڈیلی ویجروں کی ملازمتوں کو مستقل بنانے اور یہاں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے روزگار مہم شروع کرنے پر بھی زور دیتے ہیں۔ نیز ہم ایک منصفانہ ریزرویشن پالیسی کو معرض وجود لانے کےلئے اور میرٹ کو تحفظ فراہم کرنے کےلئے موجودہ ریزوریشن پالیسی میں اصلاح کرنے کی پُرزور مانگ کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ’’یہ چند اہم اقدامات ہیں توجہ کا متقاضی ہیں۔ ہم حالات کے انتہائی نازک موڈ پر ہیں۔ تبدیلی کے اس وقت کو قابل اور دور اندیش قیادت کی ضرورت ہے۔ برعکس صورت میں مایوسی اور عذاب ہمارے مستقبل کا حصہ ہونگے۔ اپنی پارٹی کے قائدین پورے اخلاص اور ایمانداری کے ساتھ جموں کشمیر کے عوام کی خدمت کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔