عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/مرکز نے منگل کے روز بتایا کہ کشمیر میں مجوزہ تین ریلوے منصوبوں کو مقامی آبادی اور منتخب نمائندوں کے اعتراضات کے بعد فی الحال روک دیا گیا ہے۔ ان اعتراضات میں بڑے پیمانے پر زمین کے حصول اور سیب کے باغات پر پڑنے والے منفی اثرات پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔مرکزی وزیرِ ریلوے اشونی کمار نے کہا کہ سری نگر سے بارہمولہ تک پہلے ہی ریلوے لائن موجود ہے، جبکہ مزید تین ریلوے لائنیں بچھانے کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔انہوں نے کہابعد ازاں جموں و کشمیر حکومت اور اراکینِ پارلیمان نے خدشات کا اظہار کیا کہ ان ریلوے لائنوں کے قیام سے سیب کے باغات کو شدید نقصان پہنچے گا۔ اب حکومت نے ان مجوزہ منصوبوں کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ پلوامہ، شوپیاں اور اننت ناگ اضلاع میں سیب کے کاشتکاروں اور مقامی باشندوں کے احتجاج کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جہاں لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ منصوبے زرعی اور باغبانی زمین کو متاثر کریں گے، باغات کو نقصان پہنچائیں گے اور خاندانوں کی بے دخلی کا باعث بنیں گے۔گزشتہ چند مہینوں کے دوران متعدد احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں مقامی لوگوں نے منصوبوں کی نئی روٹ بندی، منصفانہ معاوضہ اور زمین کے حصول سے قبل مشاورت کا مطالبہ کیا۔
مقامی اعتراضات کے بعد مرکز نے کشمیر میں مجوزہ تین ریلوے منصوبے روک دیے