ایجنسیز
ہرارے/زمبابوے کے دورے پر ہندوستان کے ہیڈ کوچ کے طور پر گئے وی وی ایس لکشمن نے اوپنر ویبھو سوریہ ونشی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ پوری طرح پختہ (میچور) نظر آ رہے ہیں اور یہی بات مجھے ان کی سب سے زیادہ پسند ہے ۔ زمبابوے کے خلاف 3-0 سے کلین سوئیپ کے بعد لکشمن نے کہا، “وہ بہت ہی میچور نظر آ رہے ہیں اور یہی بات مجھے ویبھو کے بارے میں سب سے زیادہ پسند ہے ۔ وہ ہر میچ میں حالات کا اندازہ لگا رہے ہیں اور بہتر سے بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ نہ صرف میچوں کا، بلکہ ہر پریکٹس سیشن کا بھی تجزیہ کرتے ہیں۔ آج آپ نے جو دیکھا، وہ ایک پختہ اننگز تھی کیونکہ میدان بہت بڑا تھا اور وکٹ دھیمی تھی، جہاں گیند تھوڑی رک کر آ رہی تھی۔
مجھے لگا کہ زمبابوے کے گیند بازوں نے ان کے خلاف خاص منصوبہ بندی کی تھی، لیکن انہوں نے اس کا شاندار جواب دیا۔ ویبھو کی یہ بے حد میچور اننگز تھی۔”جب سوریہ ونشی کی سب سے بڑی طاقت کے بارے میں پوچھا گیا تو لکشمن نے کہا، “انہیں اپنے کھیل کی اچھی سمجھ ہے ، لیکن جو بات سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ایک انسان کے طور پر تیار ہوئے ہیں۔ گزشتہ چھ مہینوں میں ان کی پختگی، سمجھ اور بیداری میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مشکل حالات کا سامنا کر پا رہے ہیں اور دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کے خلاف دباؤ میں بھی اچھا مظاہرہ کر رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، “ہم ویبھو کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ تقریباً ڈھائی سال پہلے ، 2024 کے انڈر-19 ورلڈ کپ سے ٹھیک پہلے وجے واڑہ میں ہوئی سیریز کے دوران ہم نے انہیں پہچانا تھا، جہاں وہ انڈیا بی کے لیے سب سے زیادہ رن بنانے والوں میں شامل تھے ۔ تب سے وہ ‘سینٹر آف ایکسیلنس’ کے کئی کیمپوں کا حصہ رہے ہیں اور پھر 2026 کے انڈر-19 ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز تھے ۔ اس لیے ہم انہیں پوری طرح جانتے ہیں، صرف ایک کھلاڑی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک انسان کے طور پر بھی۔ جب آپ کسی انسان کو اچھی طرح جانتے ہیں، تو آپ کو سمجھ آتا ہے کہ ان کے لیے کیا چیز بہتر کام کرتی ہے اور انہیں میچ سے پہلے کس طرح تیار کیا جائے تاکہ وہ صحیح ذہنی حالت کے ساتھ میدان پر اتریں۔”مسٹر لکشمن کے مطابق سوریہ ونشی کے لیے سب سے زیادہ سدھار کی گنجائش ان کی فٹنس میں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ “ایک شعبہ جس میں ہم چاہتے ہیں کہ وہ سدھار کریں، وہ ان کی مجموعی فٹنس ہے ۔ وہ ابھی بہت چھوٹے ہیں اور خود بھی کھیل کے ہر پہلو میں بہتر بننا چاہتے ہیں۔ آج بھی جب وہ زخمی ہوئے تب بھی وہ میدان پر ہی رہنا چاہتے تھے ۔ لیکن ہمارے فیزیو نے انہیں باہر آنے کے لیے کہا۔ یہی ان کی ٹیم کے لیے ہر ممکن طریقے سے تعاون دینے کی لگن اور ایمانداری کو ظاہر کرتا ہے ۔” انہوں نے کہا، “مجھے اس سیریز میں ان کی کارکردگی پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔ وہ سنچری نہ بنا پانے کی وجہ سے مایوس تھے ، لیکن ہم نے ان سے کہا کہ یہ نہ تو پہلا موقع تھا اور نہ ہی آخری ہوگا۔ ان کے سامنے بہت طویل کیریئر ہے اور ہر دن بہتر بننے کا ان کا نظریہ اور سوچ شاندار ہے ۔ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ وہ آگے بڑھیں گے اور بین الاقوامی سطح پر تمام ریکارڈ توڑیں گے ۔ ان کے پاس ایسا کرنے کی پوری صلاحیت اور ٹیلنٹ موجود ہے ۔”