عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر//اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے جمعہ کے روز کہا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر جاری طلبہ احتجاج میں شامل ہونے کا’’کوئی اخلاقی حق نہیں‘‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں احتجاجی مظاہرین کے ساتھ ان کی حکومت کا سابقہ طرزِ عمل آج طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے ان کے دعوے کی نفی کرتا ہے۔الطاف بخاری نے یہ بات اُس وقت کہی جب نامہ نگاروں نے ان سے جنتر منتر پر محبوبہ مفتی کی طلبہ احتجاج میں شرکت اور مظاہرین کی حمایت سے متعلق ردِعمل جاننا چاہا۔انہوں نے کہا’’انہیں نہ تو احتجاج میں شریک ہونے کا حق تھا اور نہ ہی مظاہرین سے ہمدردی ظاہر کرنے کا، کیونکہ اپنے دورِ حکومت میں انہوں نے احتجاج کرنے والوں کے ساتھ انتہائی سخت رویہ اختیار کیا۔ جب وہ اقتدار میں تھیں تو ہمارے احتجاج کرنے والے بچوں پر پیلٹ گنوں کا استعمال کیا گیا‘‘۔
الطاف بخاری نے محبوبہ مفتی پر اپنی تنقید اور طلبہ تحریک کے بارے میں اپنے مؤقف میں فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ اپنے مطالبات میں حق بجانب ہیں۔انہوں نے کہا’’بچے جائز ہیں،اُن کے ساتھ جو انصافی ہوئی ،وہ قابل مذمت ہے ۔شاید پورے ہندوستان نے آج دیکھا کہ پولیس او رسیکورٹی فورسز کی بربریت کیا ہوتی ہے جبکہ ہم نے1990سے یہ دیکھا ہے،ہمارے جسموں نے یہ پیلٹ کھائے ہیں،ہمارے بچوں نے یہ پیلٹ کھائے ہیں ،ہماری بیٹیاں ان سے اندھی ہوگئی ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج جو لوگ مظاہرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں، انہی میں سے کئی ایسے ہیں جو اُس وقت اقتدار میں تھے جب جموں و کشمیر میں ایسے واقعات پیش آ رہے تھے۔انہوں نے کہا’’ہمیں افسوس یہ ہے کہ ہمارے اپنے حکمران اُس وقت یہاں حاکم تھے اور ا ن کے دور میںیہ ہوا،اور وہی بے ضمیر لوگ کل ہمیں وہاں(جنترمنترپر)نظر آئے‘‘۔انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ عوامی مفاد کے معاملات پر اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر متحد ہوں۔انہوں نے کہا، “اگر وہ کسی اور مسئلے پر اکٹھے نہیں ہو سکتے تو کم از کم اس معاملے پر ایک پلیٹ فارم پر ضرور آئیں‘‘۔الطاف بخاری نے نوجوانوں کی گرفتاریوں اور رہائشی مکانات کی مسماری جیسے معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان مسائل پر اجتماعی سیاسی ردِعمل ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا، “ہمارے نوجوانوں کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ لوگوں کے گھروں کو صرف اس لیے مسمار کیا جا رہا ہے کہ ان کے خاندان کا کوئی فرد باہر نکلا۔ کم از کم ان اقدامات کو روکنے کے لیے سب کو ایک پلیٹ فارم پر آنا چاہیے‘‘۔انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک سیاسی جماعتیں ان مسائل پر ایک آواز نہیں بنیں گی، حالات مزید خراب ہوتے رہیں گے۔انہوں نے کہا، “جب تک وہ ایک پلیٹ فارم پر نہیں آئیں گے اور مختلف گروہوں کی نمائندگی کرتے رہیں گے، یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے‘‘۔الطاف بخاری نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے بارے میں بیدار رہیں اور حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے بہتر حکمرانی کی امید پر موجودہ حکومت کو ووٹ دیا تھا، اس لیے حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔مذہبی حوالے سے بات کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا کہ موجودہ حالات خود احتسابی کا تقاضا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا’’اگر ہم نے گناہ نہ کیے ہوتے تو ہمیں ایسے حکمران نہ ملتے، اور اگر ایسے حکمران نہ ملتے تو یہ حالات بھی پیدا نہ ہوتے۔ یہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرنی چاہیے‘‘۔