عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//ایف آئی آر درج ہونے کے تقریباً 16سال بعد سرینگر پولیس نے جمعہ کو نامزد این آئی اے عدالت سرینگر میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر میاں عبد القیوم سمیت چار وکلا کے خلاف چارج شیٹ پیش کر دی۔چارج شیٹ میں میاں عبد القیوم، بار ایسوسی ایشن کے سابق نائب صدر ایڈوکیٹ اعجاز احمد بیدار، ایڈوکیٹ جی این شاہین اور ایڈوکیٹ بلال احمد بٹ کو ملزم قرار دیا گیا ہے۔یہ معاملہ پولیس تھانہ مائسمہ میں 29 مارچ 2010 کو درج کی گئی ایف آئی آر سے متعلق ہے۔ مائسمہ پولیس نے نامزد این آئی اے عدالت میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون (یو اے پی اے)کی دفعہ 13اور رنبیر پینل کوڈ (آر پی سی)کی دفعہ 188 کے تحت چارج شیٹ پیش کی، جسے عدالتی غور کے لیے رکھا گیا ہے۔استغاثہ کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک واقعے کے دوران سرینگر کے لال چوک میں مبینہ طور پر آزادی کے حق میں نعرے لگائے، ہندوستان کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف نعرے بازی کی، ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کی اور مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقاریر کیں۔چارج شیٹ دائر ہونے کے بعد یہ معاملہ باضابطہ طور پر ٹرائل کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔نامزد این آئی اے عدالت نے مزید کارروائی کے لیے اگلی سماعت کی تاریخ 12 اگست 2026 مقرر کی ہے۔