عظمیٰ نیوزسروس
جموں// کانگریس نے سیلاب سے متاثرہ افراد اور جموں و کشمیر کی متاثرہ آبادی، خصوصاً پونچھ اور راجوری میں ہونے والی تباہی اور جانی نقصان کے پیش نظر، خصوصی راحت اور بازآبادکاری پیکیج کا مطالبہ کیا۔ پارٹی نے جانی نقصان اور گھروں کو پہنچنے والے نقصان کے لیے دی جانے والی ایکس گریشیا امداد میں اضافہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور موجودہ امدادی رقم کو ناکافی قرار دیا۔ راجیو بھون، پی سی سی ہیڈکوارٹر جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے کے پی سی سی کے ورکنگ صدر رمن بھلہ اور ترجمان اعلیٰ رویندر شرما نے کہا کہ قدرت نے جموں و کشمیر کے کئی علاقوں، خصوصاً پونچھ، راجوری اور رام بن اضلاع میں شدید تباہی مچائی ہے، جہاں سب سے زیادہ جانی نقصان کے ساتھ ساتھ نجی اور سرکاری املاک کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ سینکڑوں مکانات، گاڑیاں اور دیگر املاک تباہ ہو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پونچھ کے سرنکوٹ اور منڈی علاقوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔ پونچھ ضلع میں 30 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے آٹھ اب بھی لاپتہ ہیں، جبکہ راجوری ضلع میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے دو اب بھی لاپتہ ہیں۔ سینکڑوں مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ گاڑیاں، دکانیں، آٹا چکیاں، گھراٹ، دیگر املاک، پانی و بجلی کا بنیادی ڈھانچہ، سڑکیں، پل اور سرکاری عمارتیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ راجوری اور پونچھ گزشتہ پانچ روز سے زائد عرصے سے بجلی اور پانی کی سہولت سے محروم ہیں کیونکہ بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔کانگریس رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت اس آفت کو قومی آفت قرار دے کیونکہ اب تک 30سے زائد افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں مکانات، گاڑیاں، سڑکیں اور پل تباہ ہوئے ہیں، جن کی تعمیرِ نو اور متاثرین کی بازآبادکاری کے لیے فوری طور پر خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے تمام 29ایم ایل ایز اور اراکینِ پارلیمان کو چاہیے کہ وہ مرکز سے رجوع کریں اور وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو متاثرہ عوام کے لیے مناسب خصوصی پیکیج کا اعلان کرنے پر آمادہ کریں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ سال جموں خطے میں نجی املاک اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا نہ تو مناسب معاوضہ دیا گیا اور نہ ہی سڑکوں اور پلوں کی تعمیرِ نو کی گئی، جو بی جے پی کے عوامی نمائندوں کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سیاست سے بالاتر ہو کر بے گھر ہونے والے لوگوں کی مدد کی جائے، نہ کہ صرف زبانی دعوے یا تصویری نمائش کی جائے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ جن متاثرین کا سب کچھ تباہ ہو گیا ہے انہیں کم از کم چھ ماہ تک مفت راشن فراہم کیا جائے۔انہوں نے جموں میں سڑک بند ہونے کی وجہ سے پھنسے ہوئے امرناتھ یاتریوں کی حالتِ زار پر بھی تشویش ظاہر کی اور مطالبہ کیا کہ نشیبی اور خطرناک علاقوں میں رہنے والے تمام لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کے لیے مناسب شیلٹر ہومز اور ریلیف کیمپ قائم کیے جائیں جب تک حالات معمول پر نہیں آ جاتے۔ اس کے ساتھ ساتھ پھنسے ہوئے مسافروں اور یاتریوں کی محفوظ واپسی کے لیے خصوصی ٹرینیں چلانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔