عظمیٰ نیوزسروس
جموں// جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر جموں رتن لال گپتا نے جمعرات کو پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی جانب سے نیشنل کانفرنس پر آرٹیکل 370اور 35-اے کی منسوخی کو معمول کا حصہ بنانے کے الزام پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان محض سیاسی طور پر اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے گمراہ کن پروپیگنڈہ ہے۔رتن لال گپتا نے کہا کہ یہ انتہائی حیران کن بات ہے کہ وہی جماعت، جس نے “جموں و کشمیر میں بی جے پی کے لیے سرخ قالین بچھایا‘‘، آج خود کو ریاست کی آئینی شناخت کا محافظ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “پی ڈی پی کو آرٹیکل 370 اور 35-اے کے معاملے پر نیشنل کانفرنس کو نصیحت کرنے کا نہ کوئی اخلاقی، نہ سیاسی اور نہ ہی نظریاتی حق حاصل ہے۔ بی جے پی کو جموں و کشمیر کی اقتدار کی راہداریوں تک پہنچانے اور اس کے بعد پیش آنے والے تمام واقعات کی بنیاد رکھنے والی جماعت پی ڈی پی ہی تھی‘‘۔
انہوں نے کہا کہ عوام یہ نہیں بھولے کہ محبوبہ مفتی نے اصولوں پر اقتدار کو ترجیح دی اور بی جے پی قیادت کی جانب سے بار بار سیاسی سبکی اٹھانے کے باوجود اقتدار سے چمٹی رہیں۔رتن لال گپتا نے کہا کہ “پی ڈی پی نے اپنی مرضی سے سرفیسی ایکٹ ،جی ایس ٹی اور نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ جیسے مرکزی قوانین کو جموں و کشمیر میں نافذ کرنے میں سہولت فراہم کی، جس سے 5اگست 2019سے بہت پہلے ہی ریاست کی خصوصی آئینی حیثیت بتدریج کمزور ہوتی گئی۔ حتیٰ کہ آرٹیکل 370اور 35-اے کی غیر آئینی منسوخی کے بعد بھی پی ڈی پی کے ارکانِ پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ میں کئی اہم قوانین پر بی جے پی کی حمایت کی۔ بی جے پی کے ساتھ ان کی سیاسی مفاہمت کبھی ختم نہیں ہوئی، صرف اس کی شکل بدل گئی‘‘۔انہوں نے الزام لگایا کہ پی ڈی پی نے ہمیشہ علاقائی اور جمہوری قوتوں کے اتحاد کی ہر مخلصانہ کوشش کو سبوتاژ کیا۔انہوں نے کہا’’جب بھی نیشنل کانفرنس عوام کے حقوق کی بحالی کے لیے مشترکہ جدوجہد کی اپیل کرتی ہے، پی ڈی پی کسی نہ کسی بہانے سے اس سے دور رہتی ہے کیونکہ وہ ناگپور اور جھانڈیوالان میں بیٹھے اپنے سیاسی سرپرستوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ پی ڈی پی اور بی جے پی کی دیگر ‘اے، بی اور سی ٹیمیں‘ عوام میں کنفیوژن پیدا کرنے، رائے عامہ کو تقسیم کرنے اور جموں و کشمیر کی اجتماعی آواز کو کمزور کرنے پر قائم ہیں۔ تاہم عوام ان کے اس دھوکے کو سمجھ چکے ہیں اور اب مزید گمراہ نہیں ہوں گے‘‘۔محبوبہ مفتی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے رتن لال گپتا نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے نہ کبھی جموں و کشمیر کے آئینی حقوق پر سمجھوتہ کیا ہے اور نہ ہی ہتھیار ڈالے ہیں۔انہوں نے کہا’’پی ڈی پی کے برعکس ہم سیاسی ڈرامہ بازی یا منافقت پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم آئینی، جمہوری اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے عوام سے چھینے گئے ہر حق کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ ریاستی درجے کی بحالی ہماری منزل نہیں بلکہ آرٹیکل 370، آرٹیکل 35-اے اور جموں و کشمیر کی آئینی خودمختاری کی بحالی کی جانب پہلا فیصلہ کن قدم ہے۔ ہماری وابستگی عوام کے ساتھ ہے، نہ کہ سیاسی مفاد پرستی کے ساتھ‘‘۔