یواین آئی
نئی دہلی// نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پیپر لیک اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے احتجاج میں اپوزیشن جماعتوں کے ہنگامے کے باعث بدھ کے روز بھی لوک سبھا میں وقفہ سوالات اور وقفہ صفر نہ ہو سکا اور ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ دو بار التوا کے بعد کارروائی دو بجے شروع ہوتے ہی اپوزیشن اراکین ہنگامہ کرنے لگے۔ پریذائیڈنگ آفیسر کرشنا پرساد تینیٹی نے اراکین سے اپنی اپنی نشستوں پر جانے اور ایوان کو چلانے میں تعاون کرنے کی درخواست کی لیکن ہنگامہ جاری رہا جس کے باعث ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔اس سے قبل صبح 11 بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی کانگریس اور کچھ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے ان مسائل پر ہنگامہ آرائی شروع کر دی جس سے کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی۔دوپہر 12 بجے ایوان کا اجلاس دوبارہ شروع ہوتے ہی اپوزیشن جماعتیں ہنگامہ کرنے لگیں اور کچھ اراکین ایوان کے وسط میں آ گئے۔ کئی اپوزیشن اراکین نیٹ کی مخالفت میں نعرے لکھی تختیاں لیے ہوئے تھے۔ کانگریس اراکین احتجاجاً کالے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔اس دوران، برلا نے کانگریس کے کے سی وینوگوپال کو بولنے کی اجازت دی۔ وینوگوپال نے کہا کہ جس طریقے سے اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ کے ساتھ پولیس سلوک کر رہی ہے، وہ انتہائی نا مناسب ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وزیر تعلیم استعفیٰ دیں، جس کے بعد ایوان میں پیپر لیک کے معاملے پر تفصیلی بحث کرائی جائے۔ اگر حکومت ان کا مطالبہ تسلیم کرتی ہے تو وہ بحث کے لیے تیار ہیں۔اس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے کہا کہ حکومت نیٹ پیپر لیک کے معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔ بحث کس قانون کے تحت ہوگی اور کتنی دیر ہونی چاہیے، اس کا فیصلہ بات چیت میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کے لیے با معنیٰ بحث ہو، اس کے لیے حکومت تیار ہے۔سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے اکھیلیش یادو نے کہا کہ پیپر لیک کا معاملہ کانگریس، بھارتیہ جنتا پارٹی یا ایس پی کا نہیں ہے، یہ تمام لوگوں سے جڑا مسئلہ ہے۔ اس کے لیے تمام سیاسی جماعتیں لڑ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، “طلبہ کے ساتھ پولیس نے بربریت کی، بیٹیوں کے کپڑے پھاڑے گئے۔” یادو نے کہا، “وزیر اعظم ایوان سے باہر نیٹ کے معاملے پر بیان دے سکتے ہیں، ایوان میں آ کر اس معاملے پر کیوں نہیں بول سکتے۔”اس کے بعد برلا نے کہا کہ کب بحث کرنی ہے اور کتنی دیر بحث کرنی ہے، یہ بات چیت کے دوران طے ہوگا۔ حکومت بحث کے لیے تیار ہے۔ اپوزیشن اراکین اپنی اپنی نشستوں پر جائیں اور کارروائی چلنے دیں۔برلا کی اپیل کا اپوزیشن اراکین پر کوئی اثر نہیں ہوا اور ہنگامہ جاری رہا۔ ہنگامہ جاری رہنے پر اسپیکر نے کارروائی دوپہر دو بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔اس سے قبل صبح 11 بجے برلا نے جیسے ہی وقفہ سوال شروع کرنے کا اعلان کیا، اس سے پہلے ہی اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر ہنگامہ کرنے لگے۔ برلا نے اراکین سے شور شرابا نہ کرنے کی درخواست کی لیکن اراکین نے ان کی بات پر توجہ دیے بغیر نعرے لگاتے ہوئے ایوان کے وسط میں آ گئے۔اسپیکر نے اراکین سے ایوان چلنے دینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا، “آپ وقفہ سوال چلنے دیں۔ سوالات کے وقفے کے بعد جن موضوعات پر نوٹس آئے ہیں، ان سب پر بحث کرائی جائے گی لیکن یہ سب سوالات کے وقفے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ میں آپ کے معاملے پر بحث کرانے کے لیے تیار ہوں۔”انہوں نے کہا کہ اراکین ایوان نہیں چلانا چاہتے، یہ اچھا پیغام نہیں ہے۔ ان کی کسی بات پر جب اراکین نے توجہ نہیں دی تو مسٹربرلا نے ایوان کی کارروائی ایک منٹ کے اندر ہی 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔ادھرنیٹ پیپر لیک کے احتجاج میں اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر پارلیمنٹ تک مارچ نکالنے والے طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر بحث کا مطالبہ کر رہے اپوزیشن نے مسلسل تیسرے دن بدھ کو بھی راجیہ سبھا میں پرزور ہنگامہ کیا۔
اس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی تین بار کے التوا کے بعد دن بھر کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا آج تیسرا دن تھا اور کارروائی میں خلل کی وجہ سے اب تک ایوان میں کوئی قانون سازی کا کام نہیں ہو سکا ہے۔ دوسری بار کے التوا کے بعد تین بجے جب ایوان دوبارہ متفقہ طور پر یکجا ہوا تو ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ڈراوڑ منیترا کزگم کے تروچی شیوا کو بولنے کا موقع دیا۔ شیوا نے کہا کہ انہوں نے طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر بحث کرانے کے لیے رول 267 کے تحت نوٹس دیا ہے اور یہ ایک نایاب معاملہ ہے۔ حکومت نے بھی خود یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے اور اپوزیشن بھی بحث چاہتی ہے۔ ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ حزب اختلاف کے لیڈر، ایوان کے لیڈر اور پارلیمانی امور کے وزیر سبھی نے اس بارے میں اپنا موقف رکھا ہے اور ایوان چاہتا ہے کہ ایوان بحث کے بارے میں اتفاق رائے قائم کرے اور اتفاق رائے کی بنیاد پر ہی بحث ہو۔پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے لیکن کانگریس پارٹی شرط لگا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس باہر غلط پیغام دے رہی ہے اور بحث نہ ہونے دینے کے لیے بہانہ بناکر آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کے لیڈر ملکارجن کھرگے تجربہ کار ہیں لیکن کانگریس بحث کے لیے شرط لے کر آئی ہے۔ اب ایوان اس بارے میں فیصلہ کرے اور ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ کھرگے نے کہا کہ ایوان نے کہا ہے کہ نایاب معاملے میں ہی رول 267 پر بحث کا فیصلہ لیا جاتا ہے اور اس سے زیادہ نایاب معاملہ کیا ہوگا جب بچوں اور خواتین پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے۔اس دوران اپوزیشن کے ارکان زور زور سے بولنے لگے اور بدنظمی کی صورت حال بنتے دیکھ کر ڈپٹی چیئرمین نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی۔ اس سے پہلے بھی اسی معاملے پر اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی پہلے بارہ بجے تک، پھر دو بجے اور پھر تین بجے تک ملتوی کرنی پڑی تھی۔اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان برقرار تعطل کے باعث مانسون سیشن کے پہلے تین دن کی کارروائی ہنگامے کی نذر ہو گئی اور ایوان میں کوئی قانون سازی کا کام نہیں ہو سکا۔