محمد تسکین
بانہال// شدید بارش کے بعد بدھ کو جموں سرینگر شاہراہ پر ٹریفک کی آمد و رفت روک دی گئی۔عہدیداروں نے بتایا کہ رات کے اوقات میں شدید بارش نے ادھم پور ضلع میں اپ ٹیوب اور رام بن ضلع کے ڈائون ٹیوب میں کئی مقامات پر مٹی کے تودے اور پتھر گرنے کا آغاز ہوا جس سے ہائی وے پر ملبہ اور پتھر جمع ہوگئے۔ٹریفک حکام نے بتایا کہ مسلسل بارش اور تازہ مٹی کے تودے گرنے کے خطرے کے پیش نظر اودھم پور سے کشمیر کی طرف یا قاضی گنڈ سے جموں کی طرف کسی نئے ٹریفک کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) کے افراد اور مشینری کو کام میں لگا دیا گیا ہے، اور متاثرہ حصوں کو صاف کرنے کے لیے بحالی کا کام جاری ہے۔دریں اثنا، امرناتھ یاتریوں کا ایک اور قافلہ بالتل کے راستے سے واپس، رام بن ضلع کے چندر کوٹ یاتری نواس پہنچا۔ حکام نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ NH-44 پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔مدھانہ سرنکوٹ میں ممبر پارلیمنٹ میاں الطاف اس وقت بال بال بچ گئے جب انکا قافلہ پونچھ میں ہوئی سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے جارہے تھے۔
انکی گاڑی پسی میں پھنس گئی اور حکام کو انکے قافلے کو نکالنے میں کئی گھنٹے لگے۔ادھر نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھریکا قافلہ بھی بال بال بچ گیا جب وہ جموں راجوری قومی شاہراہ پر چنگس کے مقام پر پہنچ گیا۔ عین اسی وقت پہاڑی سے بھاری پسی گری لیکن نائب وزیر اعلیٰ اتفاقاً تھوڑی دوری پر تھے۔ادھرجموں راجوری پونچھ قومی شاہراہ پر تین گھنٹے سے زیادہ وقت تک ٹریفک بند رہی جب سرنکوٹ کے مدانہ میں ہائی وے کے حصے میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی۔بدھ کی صبح، مدانہ میں ہائی وے پر بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی۔ ملبہ تقریباً 3 گھنٹے تک ہٹایا گیا جس کے بعد آمدورفت بحال کردی گئی۔دوسری جانب فتح پور میں لینڈ سلائیڈنگ کے بعد اہم تھانہ منڈی راجوری روڈ پر گاڑیوں کی آمدورفت بھی ایک گھنٹے سے زیادہ بند رہی۔دریں اثنا، تین دن کے وقفے کے بعد، کوٹرنکا تا خواص سڑک کو ٹریفک کی نقل و حرکت کے لیے بحال کر دیا گیا۔تاہم، دہرہ کی گلی سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت ایک اور دن بھی بند رہی اور اس اہم سڑک کی بحالی میں مزید کچھ دن لگنے کی امید ہے۔