ٹی ای این
سرینگر//مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ یکم جنوری 2026 تک انکم ٹیکس محکمہ میں گروپ اے، بی اور سی کے تحت مجموعی طور پر 26997افسران اور معاون عملے کی اسامیاں خالی ہیں۔ حکومت کے مطابق خالی اسامیوں کو پر کرنے کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور ضرورت کے مطابق باقاعدگی سے بھرتیاں کی جاتی ہیں۔وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں کہا کہ متعلقہ بھرتی قواعد کے مطابق یہ تقرریاں یونین پبلک سروس کمیشن ، اسٹاف سلیکشن کمیشن (SSC) یا ترقی (پروموشن) کے ذریعے کی جاتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نیو انکم ٹیکس ایکٹ 2025 کے نفاذ سے ٹیکس قوانین کی زبان کو مزید آسان بنایا گیا ہے، متروک دفعات کو ختم کیا گیا ہے اور مختلف قوانین کو ازسرنو منظم و یکجا کیا گیا ہے تاکہ ٹیکس نظام کو زیادہ مؤثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت ٹیکس انتظامیہ کو جدید بنانے کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل نظام کا بھرپور استعمال کر رہی ہے۔
اس کے تحت انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے عمل کو آسان، ریٹرن کی تیز رفتار پروسیسنگ، ڈیٹا اینالیٹکس اور فیس لیس اسیسمنٹ جیسے اقدامات نافذ کئے گئے ہیں۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں چودھری نے بتایا کہ فیوجیٹو اکنامک آفینڈرز ایکٹ 2018کے تحت سال 2024سے اب تک 11 افرادکو مفرور معاشی مجرم قرار دیا گیا ہے، جبکہ ان سے متعلق 1,303.16کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کی جا چکی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے 8 افراد کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جبکہ 4 افراد کی حوالگی کے لیے درخواستیں بھی بھیجی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 12 میوچول لیگل اسسٹنس ریکویسٹ (MLAR) بھی متعلقہ ممالک کو روانہ کی گئی ہیں۔حکومت کے مطابق ضبط شدہ اثاثے ان معاشی جرائم سے متاثرہ حقیقی متاثرین کو واپس دلانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اب تک تقریباً 73,015.03 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے متاثرین یا جائز دعویداروں کو بحال کیے جا چکے ہیں، جن کے ذریعے مالی سال 2024-25 میں 15,262.30 کروڑ روپے ، 2025-26میں 32,677.97 کروڑ روپے اور مالی سال 2026-27میں اب تک 9,873.11کروڑ روپے کی رقم واپس دلائی جا چکی ہے۔وزیر مملکت نے ایک علیحدہ جواب میں بتایا کہ ریزرو بینک آف انڈیا کے بیلنس آف پیمنٹس اعداد و شمار کے مطابق بیرون ملک مقیم بھارتیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ رقم مالی سال 2024-25 کے 124.6 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2025-26 میں 144.8 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ نجی ترسیلات کی مالیت اپریل 2025 میں 9.4 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر اپریل 2026 میں 16 ارب امریکی ڈالر ہوگئی، جو جنگ جیسے حالات کے باوجود نمایاں اضافہ کو ظاہر کرتی ہے۔