ڈاکٹر جوہر ؔقدوسی
مُنَشِّیات کا لفظ آج کل بہت عام ہوگیا ہے۔نشہ آور اشیاء (Substance-abuse) کو مجموعی طور پر مُنَشِّیات کہا جاتا ہے۔ نشہ سے عام طور پر مراد ایسی اشیاء ہیں جو آدمی کے سوچنے سمجھنے کی قدرتی صلاحیت کو بڑی حد تک متاثر کریں، لیکن نشہ کی تعریف اتنی آسان نہیں ہے۔منشیات عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس سے مراد ہر وہ نشہ آور چیز یا مادہ ہے ،جو عقل کو زائل کرے، فہم و شعور کی صلاحیت کو متاثر کرے اور انسان کو مدہوش کر دے۔یہ لفظ ’’نَشْوَة‘‘ (نشہ) سے نکلا ہے اور طبّی و سماجی اصطلاح میں ان تمام چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو انسان کے اعصاب اور سوچنے سمجھنے کی قدرتی صلاحیت پر اثرانداز ہوتی ہیں۔منشیات کی اہم قدرتی اقسام میںافیم، چرس اور بھنگ وغیرہ،جبکہ اس کی کیمیائی اور مصنوعی اقسام میںکوکین، ہیروئن، کرسٹل (آئیس) اور نشہ آور ادویات (جن کا غلط استعمال کیاجاتاہے)شامل ہیں۔دیکھا جائے توکوئی بھی ایسی چیز جو جسم یا دماغ کی فعالیت کے انداز کو بدل دے، وہ نشہ آور ہوتی ہے۔ جب کسی چیز کا ہماری زندگی پر منفی اثر پڑتا ہے تو یہ منشیات ہوتی ہے۔اس پس منظرمیںمنشیات سے مرادوہ تمام اشیا ہیں ،جن کے استعمال سے نشہ طاری ہوتاہے اوردماغ پراثرڈالتاہے۔چنانچہ شراب،چرس،ہیروئن، الکحل،حشیش ، برائون شوگر،افیون مختلف قسم کی پھکی ،کیفین ، تمباکو اورسگریٹ وغیرہ منشیات میں شامل ہیں۔ نشہ آور ادویات بغیرمرض اوربغیر ضرورت کھانسی کی دوا کااستعمال،نیند لانے کی ٹکیاں، درد کش دوائیاںاوراس کے علاوہ بعض دیگر ادویات کابے جااستعمال بھی منشیات کے زمرے میں شامل ہوتاہے، جنہیں کچھ لوگ اپنی روزمرہ کی عادت بنالیتے ہیں۔ منشیات کی لت کا اثر ہراس شخص پر پڑسکتا ہے کہ جواِسے استعمال کرنے کاارادہ کرے۔ اس کا اثر ہر عمر کے افراد پر پڑتا ہے۔منشیات کے استعمال کاپہلا حملہ دماغ پرہوتاہے اورپھریہ آہستہ آہستہ پورے جسم کو مفلوج کرکے رکھ دیتی ہیں۔دماغ پہ اثرکرنے کے بعدیہ اہم اعضا مثلامعدہ،جگراورگردے پربری طرح حملہ آورہوتی ہیں، جن کی وجہ سے انسان بوڑھاہونے لگتا ہے۔ہرنشہ کااثرایک خاص وقت تک رہتا ہے جس کے بعداس کی طلب دوبارہ شروع ہوتی ہے۔جب نشہ آورافرادکی یہ طلب پوری نہیں ہوتی تووہ اس قبیح عادت کے ہاتھوں مجبورہوکربرے اورغلط کام ،مثلاًچوری،جھوٹ،دھوکہ اورقتل وغیرہ کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔نشے کے عادی کچھ افراداس کی وجہ سے اپنے گھرکاسامان بھی نیلام کردیتے ہیں تاکہ ان کورقم مہیا ہوسکے،جس سےوہ اپنے نشے کی طلب کوپوراکرسکیں۔اس عمل میں ان کے اہل خانہ بھی متاثرہوجاتے ہیں اوریہ مرض پھرپورے معاشرے کواپنی لپیٹ میں لے لیتاہے، جس کی وجہ سے انسانی زندگیاں تباہ وبربادہوجاتی ہیں۔ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ منشیات کے چند بار استعمال کرنے پر انسانی جسم کو اِس کی عادت پڑ جاتی ہے اور پھر استعمال نہ کرنے پر انسانی جسم میں ان چیزوں کے لیے شدید طلب پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر یہ طلب بہت معمولی ہو تو ایسی چیزوں کو سماج میں قبول کر لیا جاتا ہے، لیکن جن نشیلی اشیاء کی طلب زیادہ ہوتی ہے وہ عموماً قانون کے دائرے میں آ جاتی ہیں۔کیونکہ ان کے حصول کے لیے عادی افراد جرم پر آسانی سے آمادہ ہو جاتے ہیں۔یہی وہ مرحلہ ہےجہاں منشیات ایک لعنت اور سماجی ناسوربن جاتی ہے۔
افسوس کہ جموں و کشمیر میں منشیات کی لعنت ایک تشویشناک مسئلہ بن چکی ہے، جس سے سرکاری اندازوں کے مطابق زائداز 13 لاکھ افراد متاثر ہیں۔خطّے میں حالیہ برسوں کے دوران منشیات کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔منشیات میں اضافے سے جموں و کشمیر کے نوجوان شدید خطرے میں ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق منشیات خوروں میں 90 فیصد کی عمر 17 سے 30 برس کے درمیان ہے،جو بہت زیادہ تشویشناک ہے اور جس سے نشہ آور ادویات کی لت،اس سے جڑے جرائم اوراس سے پیداہونے والی کمزوری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وائس آف امریکہ کے مقامی نامہ نگار یوسف جمیل کی رپورٹ کے مطابق’’ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کی جانب سے منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن کے باوجود(خطے)میں نشے کے عادی افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔بالخصوص نوجوانوں میں منشیات کی لت عام ہو رہی ہے ،جس سے ان کے والدین اور دیگر عزیر و اقارب پریشان ہیں۔‘‘مذکورہ رپورٹ کے مطابق وزیرِ اعلیٰ عمرعبداللہ نے دارالحکومت سرینگر میں سول سوسائٹی کے ارکان کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران کہا کہ’’میں اِس سے پہلے جب وزیرِ اعلیٰ تھا تو 2012 میں میں نے اپنی ایک تقریر میں نوجوانوں کے اندر نشے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔(لیکن)تب وہ صرف کوڈین اور چند دوسری گولیوں کا استعمال کرتے تھے اور یہ معاملہ اتنا خراب نہیں تھا۔ لیکن اب صورتِ حال بدل گئی ہے،منشیات ہماری نوجوان نسل کو نگل رہی ہیں‘‘۔
ماہرین نفسیات اور تجزیہ کار کشمیر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ علاقے میں کئی دہائیوں سے جاری تشدد اور بدامنی اور اس کے نتیجے میں نوجوانوں میں بے روزگاری اور دیگر محرومیوں اور مایوسی بتا رہے ہیں۔ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عبدالوحید خان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس منشیات کے شکار جن مریضوں کو علاج کے لیے لایا جاتا ہے، ان میں سے اکثر ذہنی دباؤ، مایوسی، ناامیدی اور افسردگی کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ڈاکٹر خان نے کہا کہ انہوں نے کئی ایسے مریضوں کا بھی علاج کیا ہے جنہوں نے انہیں بتایا کہ انہوں نے منشیات کا شوقیہ استعمال کرنا شروع کردیا تھا لیکن بعد میں انہیں اس کی لت پڑ گئی۔IMHANSسرینگرکے ماہر نفسیات اور پروفیسر ڈاکٹر یاسر راتھر کہتے ہیں،’’ایک دہائی پہلے تک، ہم اپنے ہسپتال میں روزانہ نشے کے 10-15 کیسز(cases) دیکھتے تھے۔ اب ہم روزانہ 150-200 کیسز دیکھتے ہیں۔ یہ(انتہائی) تشویشناک ہے۔‘‘
منشیات کی روک تھام کے لیے مرکزی وزارت داخلہ،جموں و کشمیر انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے جنگی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔امور داخلہ کی وزارت نے 5جولائی 2024ء کو راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ حکومت نے منشیات کی مانگ میں کمی کے لیے قومی ایکشن پلان (این اے پی ڈی ڈی آر) تیار کیا ہے اور اس پر عمل درآمد کیا ہے جس کے تحت حکومت مرکز کے زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر سمیت ملک بھر میں نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کے مسئلے کو روکنے کے لیے ایک مستقل اور مربوط کارروائی کر رہی ہے۔ اس میں شامل ہیں،جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں نشہ مکت بھارت ابھیان (این ایم بی اے) کا آغاز۔ مربوط بحالی مراکز برائے عادی افراد (آئی آر سی اے) کا قیام۔کمیونٹی پر مبنی پیر لیڈ انٹروینشن (سی پی ایل آئی) مراکز میں منشیات کے خلاف بیداری پیدا کرنے اور زندگی کے ہنر سکھانے کے لیے 18 سال سے کم عمر کے بچوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے اقدامات وغیرہ۔اِدھرکئی سرکاری حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ وہ منشیات فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ منشیات کی فروخت اور استعمال سے متعلق قوانین کے علاوہ وہ پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) جیسے سخت قوانین کا بھی استعمال کر رہے ہیں، جس کے تحت پولیس کو یہ اجازت ہے کہ وہ لوگوں کو بغیر کسی مقدمے کے ایک سال تک حراست میں لے سکتی ہےتاکہ منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جاسکے۔دوسری طرف عوامی بیداری مہم شروع کی گئی ہےاور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں وادی بھر میں’’نشہ مُکت بھارت ابھیان‘‘ کے تحت پیدل مارچ (پد یاترا) اور عوامی بیداری ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔یکم جون2026ء کو کولگام میں منعقدہ ایسی ہی ایک ریلی میں مسٹرسنہا نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ اور منشیات کے جرائم سے متعلق 930کے قریب ایف آئی آردرج کئےگئے ہیں، جبکہ جاری کریک ڈاؤن کے دوران 1000 سے زائد منشیات فروشوں اور سمگلروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ منشیات سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں ، جن میں 600 سے زیادہ ڈرائیونگ لائسنسوں کی منسوخی اور منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد سے منسلک 124پاسپورٹ منسوخ کرنے کی سفارش شامل ہے۔
جموں و کشمیر میں منشیات کے بے تحاشا استعمال کے حوالے سے المناک،غمناک اور افسوسناک منظرنامے میں اہم بات یہ ہے کہ اگراس تشویشناک صورتحال کاسدباب نہ کیاگیا توآنے والی نسلوں کازیادہ سے زیادہ تعداد میں اس میں ملوث ہوکربربادہونے کاشدیدخطرہ موجودہے۔بلا شبہ اس میں کامیابی کا حصول تبھی ممکن ہے، جب سماج کا ہر شعبہ اور ہر اکائی اس کام کے لئے اپنی اپنی ذمہ داری بخوبی انجام دینے کے لیے سامنے آجائے۔
کم عمر ی میں منشیات کے استعمال اور عالم انسانیت پر اس کے بے پناہ تباہ کن اثرات کی اِسی تشویشناک صور تحا ل کاگہرااحساس و ادراک کرکے زیرتبصرہ کتاب کے مصنف محترم ڈاکٹر نثاراحمدبٹ ترالی نے کئی سال کے مطالعہ و مشاہدہ اور تحقیق و تدقیق کے بعد قلم ہاتھ میں اٹھایا اور’’آئینہ ترال‘‘؛’’آئینہ مدارس‘‘؛’’آئینہ سفرآخرت‘‘؛’’آئینہ خطبات‘‘؛’’آئینہ حج مبرور‘‘؛’’آئینہ عمرہ‘‘؛’’آئینہ نماز‘‘اور’’آئینہ سرطان‘‘وغیرہ جیسی انسائیکلوپیڈیائی نوعیت کی کتابوں کے بعد’’آئینہ منشیات‘‘منظرعام پر لائی۔قارئین کرام اِس کتاب کا مطالعہ کرکے بذاتِ خود اِس بات کی گواہی دیں گے کہ اُردو زبان میں اس موضوع پر اب تک اِس قدر مبسوط کتاب سامنے نہیں آئی ہے۔یہ کتاب بلا شبہ منشیات کے موضوع اور اس کی مختلف النوع جہات و اَبعاد پر magnum-opusکا درجہ رکھتی ہے۔
ڈاکٹر نثار صاحب اِس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ اُن کو اللہ تعالیٰ نےفہمِ دین اور حکمت ِ دین سمیت اَن گنت نیک کاموں کی وافر توفیق عطا فرمائی ہے۔ طبابت مع دست ِ شفاء،خدمت ِ خلق اللہ ، اشاعت وتحفیظِ قرآن و حدیث،انتظامِ تدریسِ علوم شرعیہ اور تصنیف و تالیف ِ کتب ِ دینیہ، چند پہلو ہیں اُن عظیم احسانات کے،جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر صاحب کو سرفراز کیا ہے۔حق تو یہ ہے کہ موصوف کی متنوع دینی،فلاحی، سماجی،علمی اورطبّی خدمات کا احاطہ کرنے کے لیے ایک ضخیم کتاب کی تالیف و تدوین درکارہوگی۔
ڈاکٹر صاحب نے کئی عشرے قبل متعدد امراض(بشمول ،سرطان) سے متعلق کئی درجن معلوماتی کتابیں آسان اُردو زبان میں شائع کی ہیں اورہزاروں مریضوں کا تشفی بخش علاج و معالجہ کرکےطبّی شعبے میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ طبّی موضوعات پر کم و بیش تین درجن تالیفات اور دیگر موضوعات پر درجنوں کتب کی اشاعت کے بعد موصوف نےزیر نظر ’’آئینہ منشیات‘‘ جیسا ضخیم شاہکار ترتیب دیکر گویا ایک اور انسائیکلوپیڈیائی کارنامہ انجام دیا ہے،جس کی گونج بہت دیر تک اوربہت دور تک سنائی دے گی۔
( مضمون نگار،مدیر’الحیاۃ‘و’جہانِ حمدونعت‘ہیں)
رابطہ۔9906662404
[email protected]