یو این آئی
لندن/تقریباً دو دہائیوں سے روہت شرما نے کرکٹ میں ہر چیلنج کا کامیابی سے سامنا کیا ہے ، لیکن اب ان کی حالیہ کارکردگی نے ان کے بین الاقوامی مستقبل پر سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف ایک اور غیر مؤثر اننگز کے بعد اتوار کو لارڈز میں کھیلا جانے والا سیریز کا فیصلہ کن ون ڈے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے ۔ہندوستانی کرکٹ میں روہت شرما کا سفر غیر معمولی رہا ہے ۔ مڈل آرڈر کے دلکش بلے باز سے لے کر ون ڈے کرکٹ کے خطرناک ترین اوپنرز میں شمار ہونے تک، انہوں نے ہندوستان کی وائٹ بال کرکٹ کو نئی سمت دی۔ تاہم موجودہ فارم نے ان کے مستقبل پر بحث چھیڑ دی ہے ۔کارڈف کے صوفیہ گارڈنز میں دوسرے ون ڈے میں ہندوستان کو چار وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جہاں روہت نے 47 گیندوں پر صرف 26 رنز بنائے ۔
ان کی بیٹنگ میں نہ وہ روانی نظر آئی اور نہ ہی وہ جارحانہ انداز جس کے لیے وہ مشہور ہیں۔ وہ مسلسل غیر یقینی کا شکار دکھائی دیے اور آخرکار ایک غیر مؤثر سویپ شاٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہو گئے ۔یہ مسلسل دوسرا میچ تھا جس میں ان کے آؤٹ ہونے کے انداز نے ان کی فارم پر سوالات پیدا کیے ۔ اگرچہ ہندوستان کے بیٹنگ کوچ ستانشو کوٹک نے کہا کہ روہت جدوجہد نہیں کر رہے اور ممکن ہے لارڈز میں وہ بالکل مختلف اننگز کھیلیں، تاہم اعداد و شمار تشویش پیدا کرتے ہیں۔رواں سال آٹھ ون ڈے میچوں میں روہت صرف ایک نصف سنچری بنا سکے ہیں اور ان کی اوسط 30.12 رہی ہے ۔ اسی وجہ سے یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ آیا ہندوستانی سلیکشن کمیٹی 2027 ون ڈے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے 39 سالہ روہت کے بجائے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔کارڈف میچ کے دوران بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ لارڈز میں اتوار کو کھیلا جانے والا میچ ہندوستان کی جانب سے روہت شرما کا آخری بین الاقوامی میچ ہو سکتا ہے ۔ تاہم اس بارے میں کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے اور ٹیم انتظامیہ نے بھی ان قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے ۔روہت شرما کے نام ون ڈے کرکٹ میں 11,700 سے زائد رنز، تین ڈبل سنچریاں اور کئی یادگار ریکارڈ درج ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کی وائٹ بال کرکٹ میں ان کا کردار انتہائی اہم رہا ہے ۔اب سب کی نظریں لارڈز کے فیصلہ کن میچ پر ہیں، جہاں روہت شرما اپنی فارم بحال کرکے ناقدین کو جواب دے سکتے ہیں یا پھر ان کے مستقبل سے متعلق جاری قیاس آرائیاں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔