علاج، تدریس اور تحقیق متاثر
عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر//جموں و کشمیر کے سب سے بڑے سپر سپیشلٹی طبی ادارے شیرکشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزصورہ میں ڈاکٹروں، تدریسی عملے اور پیرا میڈیکل عملے کی شدید قلت کے باعث مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ فیکلٹی کی منظور شدہ اسامیوں میں تقریباً 44فیصد اسامیاں خالی ہونے سے نہ صرف مریضوں کے علاج بلکہ طبی تعلیم اور تحقیق پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حق اطلاعات قانون کے تحت حاصل کی گئی معلومات کے مطابق 15ستمبر 2025تک سکمز میں فیکلٹی اور کنسلٹنٹس کی 294منظور شدہ اسامیوں میں سے صرف 166پر تقرریاں ہو سکی ہیں، جبکہ 128اسامیاں بدستور خالی ہیں۔ یہ آر ٹی آئی سماجی کارکن و صحافی ایم ایم شجاع کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سکمز میں صرف فیکلٹی ہی نہیں بلکہ پیرا میڈیکل عملے کی بھی شدید کمی ہے۔ ادارے میں 1,493منظور شدہ پیرا میڈیکل اسامیوں میں سے صرف 730پر تقرریاں ہیں، جبکہ 763اسامیاں خالی پڑی ہیں، جو مجموعی منظور شدہ تعداد کے نصف سے بھی زیادہ ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ منظور شدہ عملہ بھی کئی دہائیوں قبل کے مریضوں کی تعداد کو مدنظر رکھ کر طے کیا گیا تھا، جبکہ آج سکمز میں کشمیر، جموں اور لداخ سے ریفر کیے جانے والے مریضوں کے علاوہ سیاحوں اور دیگر ریاستوں سے آنے والے افراد کا بھی علاج کیا جاتا ہے، جس سے مریضوں کا بوجھ کئی گنا بڑھ چکا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق عملے کی مسلسل کمی کے باعث کنسلٹنٹس، ریزیڈنٹ ڈاکٹروں اور نرسنگ سٹاف پر غیر معمولی دباؤ ہے، جس کے نتیجے میں ماہر ڈاکٹروں سے مشاورت اور آپریشنز کے لیے انتظار کا دورانیہ بڑھ رہا ہے، جبکہ سپر سپیشلٹی خدمات کی توسیع بھی متاثر ہو رہی ہے۔رواں برس جموں و کشمیر حکومت نے بھی قانون ساز اسمبلی میں تسلیم کیا تھا کہ سکمز میں او پی ڈی اور آئی پی ڈی مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کی کمی ایک بڑا انتظامی چیلنج بن چکی ہے۔ حکومت نے بتایا تھا کہ بھرتیوں کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا گیا ہے اور نئی بھرتی قواعد بھی نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ تقرریوں اور ترقیوں کا عمل تیز کیا جا سکے۔سکمز کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ موجودہ فیکلٹی، ریزیڈنٹ ڈاکٹروں اور نرسنگ عملے پر معمول سے کہیں زیادہ بوجھ آ چکا ہے۔ ایک ریزیڈنٹ ڈاکٹر کے مطابق ادارے میں منظور شدہ معیار سے کہیں زیادہ مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے، جبکہ او پی ڈی اور ایمرجنسی وارڈز کی صورتحال خود اس دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیکلٹی کی کمی کے باعث دستیاب کنسلٹنٹس پر تدریسی ذمہ داریاں اور کلینیکل نگرانی بھی بڑھ گئی ہے۔ ادھر سکمز کے ڈائریکٹرپروفیسر محمد اشرف گنائی نے حال ہی میں کہا تھا کہ تقریباً 1,200پیرا میڈیکل اسامیوں پر تقرری کا منصوبہ زیر غور ہے، جن میں 500نرسنگ اسامیاں شامل ہیں۔ ان کے مطابق ادارے کو اس وقت نرسنگ عملے کی تقریباً 60 فیصد کمی کا سامنا ہے۔آر ٹی آئی جواب کے مطابق 111فیکلٹی اسامیاں جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کے لیے محکمہ صحت و طبی تعلیم کو بھیجی جا چکی ہیں، تاہم ان میں سے صرف 68اسامیوں کا اشتہار جاری ہوا ہے جبکہ 43اسامیاں اب بھی مشتہر ہونا باقی ہیں۔اس کے علاوہ 845نان گزٹیڈ اور کلاس فورتھ اسامیاں بھی حکومت کو اشتہار کے لیے بھیجی گئی ہیں، جبکہ مزید 403گزیٹیڈ، نان گزیٹیڈ اور کلاس فورتھ اسامیوں کی بحالی درکار ہے تاکہ ان پر بھرتی کا عمل شروع کیا جا سکے۔اعداد و شمار کے مطابق اگست 2020سے اگست 2025 کے دوران سکمز سے 36ڈاکٹر ریٹائر ہوئے، جبکہ تین فیکلٹی ارکان نے استعفیٰ دیا اور مزید دو فیکلٹی ارکان نے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کے لیے درخواست دی ہے، جس سے ادارے میں افرادی قوت کا بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔